خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 401

خطبات مسرور جلد 14 401 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 ہمارا پیارا اپنے قریبیوں کے لئے دعا کرتا ہو گا اور فرماتے ہیں کہ یہ بات " اور خوشی کی لہر ہمارے جسم میں پیر سے لے کر سر تک پھیل جاتی ہے۔" الفضل 2 نومبر 1922ء جلد 10 نمبر 35 صفحہ 5) پس اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے محسنوں اور ان کی اولادوں کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔خوشی اور غمی کے موقع پر ان کو محسوس کرنا چاہئے اور افراد جماعت کے لئے عمومی طور پر بھی ہمارے خوشی اور غمی کے اظہار ہونے چاہئیں کیونکہ جماعت بھی ایک وجود ہے اور اسی وقت احساس پید اہو تا ہے جب ہم ہر فرد جماعت کے درد کو اور اس کی خوشی کو محسوس بھی کریں اور یہ چیز ہے جو جماعت میں اکائی پیدا کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی اطاعت کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق مجھے یاد ہے " کہ " وہ عبدالحکیم مرتد پٹیالوی سے جب وہ احمد کی تھا بہت محبت کیا کرتے تھے اور وہ بھی آپ سے بہت تعلق رکھتا تھا یہاں تک کہ جب اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کی تو اس وقت بھی اس نے یہی لکھا کہ آپ کی جماعت میں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں " سوائے مولوی نورالدین صاحب کے اور کوئی نہیں جو صحابہ کا نمونہ ہو۔یہ شخص بیشک ایسا ہے جو جماعت کے لئے قابل فخر ہے۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " عبد الحکیم پٹیالوی نے ایک تفسیر بھی لکھی تھی اور اس میں بہت کچھ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھ کر لکھا تھا۔جب عبد الحکیم نے اپنے ارتداد کا اعلان کیا تو میں نے دیکھا آپ نے گھبر اکر اپنے شاگردوں کو بلایا " یعنی حضرت خلیفہ اول نے فوری طور پر اس کے ارتداد کے اعلان پہ اپنے شاگردوں کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ جاؤ اور جلدی میرے کتب خانے میں سے عبد الحکیم کی تفسیر نکال دو۔" جو تفسیر اس نے لکھی تھی وہ آپ کی لائبریری میں پڑی ہوئی تھی ان سے کہاوہاں سے فوراً نکال دو۔فرمایا کہ "ایسانہ ہو کہ اس کی وجہ سے مجھ پر خدا کی ناراضگی نازل ہو۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ "حالانکہ وہ قرآن کریم کی تفسیر تھی اور اس کی بہت سی آیات کی تفسیر اس "شخص" نے خود آپ سے " یعنی حضرت خلیفہ اول سے " پوچھ کر لکھی تھی مگر اس وجہ سے کہ اس پر خدا کا غضب نازل ہوا اس نے ارتداد اختیار کیا اس کی لکھی ہوئی تفسیر کو بھی آپ نے اپنے کتب خانے سے نکلوادیا اور اپنے ذوق کے مطابق سمجھا کہ یہ کتاب دوسری کتب کے ساتھ مل کر ان کو پلید کر دے گی۔" الفضل 21 جون 1944ء جلد 22 نمبر 143 صفحہ 1) پس یہ دینی غیرت اور خدا تعالیٰ کا خوف ہے جو ہمارے لئے ایک نمونہ ہے۔پھر بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ جماعتی طور پر مثلاً کسی کو سزا ملی ہے یا کسی شخص کے خلاف کارروائی ہوئی ہے تو وہ اپنے متعلق کہتا ہے کہ میرے خلاف جو فلاں کارروائی ہوئی ہے غلط ہوئی ہے اور فلاں شخص کے خلاف نہیں ہوئی اور اس کی حمایت کی گئی ہے۔اس قسم