خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 400 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 400

خطبات مسرور جلد 14 400 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 ہو اگر وہ مر جائے تو گھر میں ایک ماتم ہوتا ہے لیکن دوسرے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو تا ان کے لئے اس کا فوت ہونا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ہزاروں لوگ روزانہ مرتے ہیں، وفا تیں ہوتی ہیں، اطلاعیں آتی ہیں لیکن جن کو ہم جانتے نہیں باوجود ان کے بارے میں علم میں آنے کے ان کا احساس نہیں ہوتا۔جبکہ اپنا اگر کوئی قریبی فوت ہو تو بڑی شدت سے اس کا احساس ہوتا ہے۔پھر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو لوگوں کے لئے بڑی تکلیف کا باعث بنے ہوتے ہیں۔ظالم ڈاکو ہیں، دہشت گرد ہیں جن کے مرنے سے ایک طبقے کو افسوس کے بجائے خوشی ہو رہی ہوتی ہے لیکن ان کے قریبیوں کو اس کا غم بھی ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ " یہ احساسات کا عجیب سلسلہ ہے اس پر غور کرنے سے عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے۔ایک بات ایک کے لئے خوشی کی گھڑی اور راحت کی واحد ساعت ہوتی ہے مگر دوسرے کے لئے ماتم کا اثر رکھتی ہے اور بہت ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو نہ کسی کی خوشی میں حصہ ہوتا ہے نہ غم میں۔" فرماتے ہیں کہ " یہ مضمون مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک فقرے میں سکھایا تھا۔"فرماتے ہیں کہ "حضرت مسیح موعود با قاعدہ اخبار پڑھا کرتے تھے۔" اس میں بھی ہمارے ان لوگوں کے لئے جن کے سپر د دین کے کاموں کی ذمہ داری ہے ایک سبق یہ بھی ہے کہ ان کو با قاعدہ اخبار بھی پڑھنے چاہئیں اور چھوٹی چھوٹی خبروں کو بھی دیکھ لینا چاہئے۔بہر حال فرماتے ہیں آپ باقاعدہ اخبار پڑھا کرتے تھے۔ایک دن 1907ء کی بات ہے۔اخبار پڑھتے ہوئے مجھے آواز دی۔"محمود" "محمود" یہ آواز اس طرح دی کہ جیسے کوئی جلدی کا کام ہوتا ہے۔"حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مصلح موعودؓ کو آواز دی اور ایسی آواز تھی جیسے کوئی جلدی کا کام ہوتا ہے۔کہتے ہیں " جب میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے خبر سنائی۔ایک شخص (جس کا مجھ کو اس وقت نام یاد نہیں) مر گیا ہے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں " اس پر میری ہنسی نکل گئی اور میں نے کہا مجھے اس سے کیا۔" حضرت صاحب نے فرمایا اس کے گھر میں تو ماتم پڑا ہو گا اور تم کہتے ہو مجھے کیا؟۔"حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں " اس کی کیا وجہ ہے۔یہ کہ جس کے ساتھ تعلق نہ ہو اس کے رنج کا اثر نہیں ہوتا۔" اور اسی طرح اگر کوئی خوشی کی بات ہے تو اس خوشی کا اثر نہیں ہو تا۔یہ بات حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب بیان فرمائی تو یہ اس موقع کی بات ہے جب حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے بیٹے میاں عبد السلام صاحب کے نکاح کا موقع تھا اور پھر حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے جذبات کا اظہار اس طرح فرمایا کہ " حضرت خلیفتہ المسیح الاول۔۔اگر زندہ ہوتے تو کس طرح خوشی مناتے۔"خود کس قدر دعائیں کرتے اور " اس وجہ سے " دوسروں کو بھی کس قدر دعائیں کرنے کی تحریک ہوتی۔" فرمایا۔یہ موقع ہمارے قلوب کے باریک احساسات میں خاص حرکت پیدا کرتا ہے۔کسی پیارے کے قریبی کی خوشی کا موقع ہو تو یہ خاص حرکت پیدا کرتی ہے۔یہ سوچ خاص حرکت پیدا کرتی ہے۔کس طرح وہ