خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 399
خطبات مسرور جلد 14 399 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 رہتی ہے۔( بچے کو ) ذرا سے بھی تکلیف ہو تو ماں اسے انتہائی سمجھ لیتی ہے کہ پتا نہیں کیا ہو گیا اور " اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کا توجہ سے علاج کرواتی ہے اور بچہ بیماری کے مزمن ہو جانے سے بچ جاتا ہے۔"زیادہ بڑھنے سے اور خطر ناک ہونے سے بچ جاتا ہے۔" لیکن بعض مائیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بچے کی بیماری کا اس وقت علم ہوتا ہے جب وہ مزمن شکل اختیار کر لیتی ہے اور علاج مشکل ہو جاتا ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " غرض ماں کا وہم بھی بچہ کی صحت کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔اسی طرح اپنی ذات میں اس قسم کا وہم کہ شاید یہ کوئی بیماری نہ ہو بہت مفید ہے۔"مثلاً روحانیت کا جہاں تک تعلق ہے اگر روحانیت میں کوئی کمی پیدا ہوتی ہے، عبادات میں کمی پیدا ہوتی ہے، کسی نیکی کے کرنے میں کمی پیدا ہوتی ہے اور یہ وہم ہو جائے کہ میں خدا تعالیٰ سے بالکل دُور تو نہیں ہٹ رہا تو ایسا ہم بھی مفید ہوتا ہے۔فرمایا کہ " اس طرح انسان خطرے کے مقابلے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے حملہ سے محفوظ کر لیتا ہے۔" الفضل 7 اگست 1949 ء جلد 3 نمبر 180 صفحہ 4) پس حقیقت میں نیکیوں میں بڑھنے والے اور اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق قائم رکھنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو ماں کی طرح فکر مند رہتے ہیں کہ ان کی نمازوں میں دعاؤں میں کمی کہیں ان کی کسی کمزوری اور معصیت کے نتیجہ میں نہ ہو۔اس وجہ سے انہیں ایسا روحانی مریض نہ بنادے جو نا قابل علاج ہو جس کی بیماری بہت پھیل چکی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تو وہ خوش قسمت تھے کہ جب اپنی حالت پر غور کر کے فکر مند ہوتے تو آپ کی صحبت میں چلے جاتے تھے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی وجہ سے اپنا علاج کر لیتے تھے۔لیکن ہمیں تو اس فکر میں رہتے ہوئے اپنی عبادتوں ، دعاؤں اور استغفار کے ذریعہ کو ہمیشہ اختیار کئے رکھنا چاہئے اور اس ذریعہ سے اپنا علاج کرتے رہنا چاہئے۔اگر ہمار او ہم بھی ہو تو یہ وہم بھی لاپر واہی کی نسبت بہتر ہے کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لا پرواہی خدا تعالیٰ سے دور لے جاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ دین سے بھی ہم دور ہٹ جاتے ہیں۔پھر نا قابل علاج روحانی مریض بن جاتے ہیں۔پس اس لحاظ سے بہت توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ یہ مضمون بیان فرمارہے تھے کہ خوشی اور غمی کا تعلق احساسات سے ہے۔مثلاً اگر کسی گھر میں شادی ہے تو وہ شادی کی اس خوشی کے لئے اگر قرض بھی لینا ہو تو قرض لے کر وہ خوشی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے قریبی بھی اس خوشی میں شامل ہوتے ہیں۔لیکن جن کو اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کے لئے اس شخص کا خوشی کرنا یا اس کے خاندان والوں کا خوشی کرنا یا اس کے قریبیوں کا خوشی کرنا اور اس کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا یا قرض لینا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ان کو اس سے کیا غرض ہے کہ کوئی خوشی مناتا ہے یا نہیں یا قرض لے کے مناتا ہے یا نہیں مناتا۔اسی طرح کوئی شخص اپنے خاندان کا کفیل