خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 398
خطبات مسرور جلد 14 398 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 گئیں۔" فرماتے ہیں کہ " شروع میں تو جیسا کہ عام قاعدہ ہے آپ کی آواز ذرامد ھم تھی اور بعض لوگوں نے کچھ شور بھی کیا مگر بعد میں جب آپ بول رہے تھے تو ایسا معلوم ہو تا تھا جیسے آسمان سے کوئی بگل بجایا جا رہا ہے اور لوگ مبہوت بنے بیٹھے تھے۔تو فرماتے ہیں کہ " آواز کی بلندی دینی خدمات کے اہم حالات میں سے ہے۔" الفضل 2 مارچ 1960ء جلد 46/14 نمبر 49 صفحہ 2) بعض دفعہ دینی خدمت کے لئے آواز کو بلند کرنا پڑتا ہے۔اس لئے اس لحاظ سے بھی جن کے سپر د یہ کام ہے ان کو اس طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔بعض دفعہ بعض لوگ بڑی فکر کا اظہار کرتے ہیں کہ ہماری نیکی کی حالت ایک جیسی نہیں رہتی۔بڑی فکر ہے یہ اس لحاظ سے بڑی اچھی بات ہے کہ انسان اپنا جائزہ لیتا ہے کہ یہ حالت جو مجھ میں نیکی کی کمی کی ہے یا نیکی میں جو شوق یا عبادات میں جو شوق پہلے تھا اس میں جو کمی ہے اس کا یہ جائزہ لیتا ہے کہ یہ کیوں ہوئی اور یہ فکر ہو کہ زیادہ دیر نہ رہے اور اس کے علاج کی فکر کرے۔تو بہر حال یہ بڑی اچھی بات ہے۔لیکن بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ کوئی برائی نہیں ہوتی بلکہ زیادہ نیکی اور کم نیکی کی جو حالت ہے وہ آتی جاتی رہتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ایک شخص آیا۔آپ کے ایک صحابی آئے۔انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! میں تو منافق ہوں۔میں جب آپ کے پاس مجلس میں بیٹھتا ہوں تو میری حالت اور ہوتی ہے اور جب آپ کی مجلس سے اٹھ کر چلا جاتا ہوں تو میری حالت اور ہوتی ہے۔یعنی نیکی کی اور دلی پاکیزگی کی حالت وہ نہیں رہتی جو آپ کی صحبت میں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی اور دل فرمایا کہ یہی تو مومن کی علامت ہے۔تم منافق نہیں ہو۔(ماخوذ از سنن الترمذی ابواب القيامة والرقائق باب منه حديث 2514) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا جو اثر ہے ظاہر ہے آپ کی قوت قدسی اور آپ کی صحبت نے وہ اثر تو ڈالنا تھا اور ڈالا کہ آپ کے پاس بیٹھنے والے جو پاک دل ہو کر آکر بیٹھتے تھے، کچھ سیکھنے کے لئے بیٹھتے تھے، اللہ تعالیٰ ، تعلق کے درجے بلند کرنے کے لئے بیٹھتے تھے ان پر اثر ہو تا تھا۔اور پھر باہر جاکر اس میں کمی بھی ہوتی تھی۔لیکن بہر حال ان صحابی کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف تھا۔اخلاص تھا۔اس لئے ان کو فکر پیدا ہوئی کہ نیکی میں کمی کی حالت کہیں لمبی نہ ہوتی چلی جائے اور ہوتے ہوتے مجھے دین سے دور نہ کر دے۔میرے اندر کوئی منافقت نہ پید اہو جائے۔یہ سوچ تھی صحابہ کی اور جب یہ احساس ہوتا ہے تو پھر انسان دعا اور استغفار سے اپنی حالت بہتر کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض بچوں کی صحت عموماماؤں کے وہم کی وجہ سے ٹھیک