خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 397
خطبات مسرور جلد 14 397 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 ہیں، مربیان کے سپرد ہیں انہیں اپنے آپ کو چست اور صحتمند رکھنے کے لئے ورزش کی طرف با قاعدہ توجہ دینی چاہئے۔ہمارے باہر کے جامعات کے مربیان اپنی تعلیم مکمل کر کے کچھ عرصہ ٹرینگ کے لئے ربوہ بھی جاتے ہیں وہاں ان کے طبی معائنے بھی ہوتے ہیں۔ڈاکٹر نوری صاحب جو وہاں دل کے سپیشلسٹ ہیں انہوں نے مجھے لکھا کہ ماشاء اللہ ہر لحاظ سے بڑے اچھے مربیان ہیں لیکن ان میں بہت سے ایسے تھے جو وزن کے لحاظ سے خطرناک حد تک زائد وزن رکھتے ہیں۔ان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔میدان عمل میں جا کر تو اور بھی زیادہ اس لحاظ سے عدم توجہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔پس ایک تو ہمارے مربیان اور واقفین زندگی کو کسی نہ کسی قسم کی ورزش ضرور کرنی چاہئے اور دوسرے ان مغربی ممالک میں غیر صحت مند غذا بھی بڑی عام ہے جس کو یہ لوگ خود بھی جنک فوڈ (junk food) کہتے ہیں۔اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔پس اس کا بھی خیال رکھیں۔اگر اکیلے ہیں اگر فیملیاں ساتھ نہیں بھی تو بعض دفعہ جہاں جہاں مشن ہاؤس میں ہیں وہاں اتناوقت تو مل ہی جاتا ہے کہ تھوڑا بہت کھانا پکانا بھی مربی کو آنا چاہئے۔بہر حال اس طرف توجہ دینی چاہئے۔یہ میں صرف آپ کو نصیحت نہیں کر رہا بلکہ میں خود بھی اللہ کے فضل سے با قاعدہ ورزش کرتاہوں۔سائیکل ایکسر سائز پہ یا دوسری مشینوں پر۔خدا تعالیٰ ابھی تک تو توفیق دے رہا ہے۔بہر حال ہمیں صحتمند واقفین زندگی اور مربیان چاہئیں۔اس لحاظ سے انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے لا پر واہ اور سست نہ ہوں تا کہ اپنے کام کو احسن رنگ میں سر انجام دے سکیں۔ایک اور واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کیا ہے۔آجکل تو لاؤڈ سپیکر وغیرہ کے ذریعہ سے ہم اپنی آواز ہر جگہ پہنچا لیتے ہیں اور اس وجہ سے ہم میں سے بہت سوں کو زیادہ اونچا بولنے کی عادت نہیں رہی یا ایک حد تک اونچا بول سکتے ہیں۔خاص طور پر جو واعظین ہیں، مربیان ہیں جب میدان عمل میں جاتے ہیں تو بعض دفعہ تبلیغ کرنی پڑتی ہے ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان کو اونچا بولنے کی پریکٹس کرنی چاہئے۔بعض دفعہ ساؤنڈ سسٹم مہیا نہیں ہوتے خاص طور پر غریب ممالک میں۔پرانے زمانے میں آواز پہنچانے کا ذریعہ نہیں تھا۔مجمع کو آواز پہنچانے کے لئے بڑی کوشش کرنی پڑتی تھی۔بڑا مشکل تھا۔اور اس لئے لوگ پریکٹس بھی کرتے تھے تا کہ آواز اونچی کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عام حالات میں تو بڑا دھیمی آواز میں مخاطب ہوا کرتے تھے لیکن بوقت ضرورت جب دنیا کو اسلام کی تعلیم سے آگاہ کرنا ہو اس وقت آپ کی کیا کیفیت ہوتی تھی اس کا ایک نقشہ حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ "حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں جب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو لاہور کا سب سے وسیع ہال " جہاں لیکچر دینا تھا " آدمیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس قدر اثر دہام تھا کہ دروازے کھول دیئے بلکہ باہر قناتیں لگائی گئیں اور وہ بھی سامعین سے بھر