خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 396

خطبات مسرور جلد 14 30 30 396 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22 / جولائی 2016ء بمطابق 22 وفا 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محنت و مشقت کی عادت اور صحت کے قائم رکھنے اور جسم کو چست رکھنے کے لئے کیا آپ کا معمول تھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ست ہر گز نہ تھے بلکہ نہایت محنت کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باوجود مشقت سے نہ گھبر اتے تھے اور بار ہا ایسا ہو تا تھا کہ آپ کو جب کسی سفر پر جانا پڑتا تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے اور آپ پا پیادہ ہیں پچیس میل کا سفر طے کر کے منزل مقصود پر پہنچ جاتے بلکہ اکثر اوقات آپ پیادہ ہی سفر کرتے۔پیدل سفر کرتے تھے اور سواری پر کم چڑھتے اور یہ عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر عمر تک تھی اور ستر سال سے متجاوز عمر میں جبکہ بعض سخت بیماریاں آپ کو لاحق تھیں اکثر روزانہ ہوا خوری کے لئے جاتے اور چار پانچ میل روزانہ پھر آتے اور بعض اوقات سات میل پیدل پھر لیتے تھے اور بڑھاپے سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے اٹھ کر سیر کے لئے چل پڑتے تھے اور وڈالہ تک پہنچ کر جو بٹالہ کی سڑک پر قادیان سے تقریباً ساڑھے پانچ میل پر ایک گاؤں ہے وہاں جا کر صبح کی نماز کا وقت ہو تا۔(ماخوذ از ریویو آف ریلیجنزار دو نومبر 1916ء جلد 15 نمبر 11 صفحہ 402) پس یہ نمونہ ہے ہمارے لئے ، خاص طور پر واقفین زندگی کے لئے جن کے سپر د جماعت کی خدمت کا کام ہے جن میں مربیان پہلے نمبر پر ہیں کہ اپنی صحت کے قائم رکھنے اور سخت جانی پیدا کرنے کے لئے ورزش یا سیر کی با قاعدہ عادت ڈالیں۔اگر وقت کی کمی کی وجہ سے یا کسی بھی وجہ سے سیر نہیں کر سکتے تو کچھ وقت ورزش کے لئے ضرور نکالنا چاہئے۔بعض مربیان جو ابھی نوجوان ہیں ان کے جسم بتا رہے ہوتے ہیں کہ ورزش نہیں کرتے۔جب پوچھو تو کہتے ہیں کہ ورزش کرتے تھے۔کچھ عرصے سے چھوڑی ہوئی ہے۔جتنے بڑے کام ہمارے مبلغین کے سپرد