خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 394 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 394

خطبات مسرور جلد 14 394 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 اس کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہا کریں۔صرف چندہ جمع کرنا اور اس کی رپورٹ کرنا ان کا کام نہیں ہے بلکہ اس نظام کو قابل اعتماد بنانا اور مرکز اور مقامی جماعتی نظام میں مضبوط ربط پید ا کرنا بھی امراء کا کام ہے۔اسی طرح ایک بات مبلغین اور مربیان کے حوالے سے بھی کہنا چاہتا ہوں۔بعض جگہ مربیان مبلغین کی با قاعدہ ہر ماہ میٹنگز نہیں ہو تیں۔مبلغ انچارج اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ یہ میٹنگز با قاعدہ ہوں۔جماعتی تربیتی اور تبلیغی کاموں کا بھی جائزہ ہو۔جو بہتر کام کسی نے کیا ہے اس کے بارہ میں تبادلہ خیال ہو اور کسی کی طرف سے اس بہتر کام کا جو طریقہ کار اپنایا گیا تھا اُس سے دوسرے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اسی طرح جو جماعتی سیکر ٹریان جماعتوں کو ہدایت دیتے ہیں یا مرکز کی ہدایت پر جماعتوں کو ہدایت بھجوائی جاتی ہے اس بارے میں بھی رپورٹ دیں۔مربیان یہ بھی دیکھا کریں کہ ہر جماعت میں اس سلسلے میں کتنا کام ہوا ہے اور جہاں سیکر ٹریان فعال نہیں ہیں۔خاص طور پر تبلیغ اور تربیت اور مالی قربانی کے معاملے میں وہاں مربیان اور مبلغین انہیں توجہ دلائیں۔اللہ تعالیٰ تمام عہدیداروں کو توفیق دے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو آئندہ تین سال کے لئے خدمت کا موقع دیا ہے اس میں وہ زیادہ سے زیادہ کام اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ سر انجام دے سکیں اور اپنے ہر قول و فعل سے جماعت میں نمونہ بننے والے ہوں۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔یہ غائب جنازہ ہے جو محترمہ صاحبزادی طاہرہ صدیقہ صاحبہ اہلیہ مکرم صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب کا ہے۔13 / جولائی 2016ء کو شام چھ بجے ان کی وفات ہوئی تھی۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب اور نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے ہاں پیدا ہوئیں۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی پوتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نواسی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی بہو تھیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔95 سال آپ نے عمر پائی۔قادیان میں ابتدائی تعلیم میٹرک تک حاصل کی۔حضرت اناں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا اور ان کے ساتھ بڑا خاص محبت اور شفقت کا سلوک تھا۔جہلم میں مکرم صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب کے ساتھ رہیں۔جہاں ان کی ( مرزا منیر احمد صاحب کی ) چپ بورڈ فیکٹری تھی جو چند ماہ پہلے جلائی گئی تھی۔وہاں یہ صدر لجنہ کی خدمات بھی بجالاتی رہیں۔پھر 1974ء کے جو فساد ہوئے تو جہلم کی جماعت کا بہت بڑا حصہ یہاں چپ بورڈ فیکٹری میں جمع ہو گیا تھا اور ان دنوں میں وہاں پر مرحومہ نے افرادِ جماعت کی بڑے اچھے رنگ میں مہمان نوازی بھی کی۔آپ کی ایک صاحبزادی ہیں امتہ الحسیب بیگم جو مکرم مرزا انس احمد صاحب جو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے بیٹے ہیں ان کی بیوی ہیں۔اور ایک بیٹے مرزا نصیر احمد صاحب ہیں۔یہ جہلم کے امیر جماعت رہے ہیں۔ابھی تک