خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 393

خطبات مسرور جلد 14 393 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 جاتے۔ہر شعبے کو بجٹ جو شوری میں پاس ہوا ہوتا ہے وہ بجٹ دیا جانا چاہئے اور اس کے خرچ کا متعلقہ سیکرٹری کو اختیار ہو نا چاہئے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ سیکرٹری سال کے کام کا منصوبہ عاملہ میں پیش کرے اور اس منظور شدہ منصوبے کے مطابق خرچ ہو اور پھر کام کا جائزہ ہر عاملہ میٹنگ میں لیا جائے اور اگر منظور شدہ منصوبے میں یا کام کے طریق میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہو یا بہتری کی گنجائش کی طرف کسی کی توجہ ہو اور دلائی جائے تو اس پر دوبارہ غور کر لیا جائے۔پھر امر اء اور صدران اور جماعتی سیکر ٹریان کا یہ بھی بہت اہم کام ہے کہ مرکز سے جو ہدایات جاتی ہیں یا سر کلر جاتے ہیں ان پر فوری اور پوری توجہ سے عملدرآمد کریں اور اپنی جماعتوں کے ذریعہ بھی کروایا جائے۔بعض جماعتوں کے بارے میں یہ شکایات ملتی ہیں کہ مرکزی ہدایات پر پوری طرح عمل نہیں کیا جاتا۔اگر کسی ہدایت کے بارے میں کسی خاص ملک یا جماعت کو ملکی حالات کی وجہ سے کچھ تحفظات ہوں تو پھر بھی فوری طور پر مرکز سے رابطہ کر کے حالات کے مطابق اس میں تبدیلی کرنے کی درخواست کرنی چاہئے اور یہ کام امیر جماعت اور صدر کا ہے۔لیکن یہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں کہ اپنی عقل لڑاتے ہوئے اس ہدایت کو ایک طرف رکھ کر دبادیا جائے اور اس پر عمل نہ کروایا جائے اور نہ ہی مرکز کو اطلاع کی جائے۔کسی بھی امیر یا صدر جماعت کی جو یہ حرکت ہے یہ مرکز گریز رویہ سمجھی جائے گی اور اس بارہ میں پھر مرکز کارروائی بھی کر سکتا ہے۔موصیان کے بارہ میں بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلی بات تو موصیان کو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ اپنے چندے کی باقاعدہ ادائیگی اور اس کا حساب رکھنا ہر موصی کی اپنی ذمہ داری ہے۔لیکن مرکزی دفتر اور متعلقہ سیکر ٹریان کا بھی کام ہے کہ ہر موصی کا حساب مکمل رکھیں اور جب ضرورت ہو انہیں یاد دہانی بھی کروائیں کہ ان کے چندے کی کیا صور تحال ہے ؟ ملکی جماعت کا کام ہے کہ مقامی جماعتوں کے سیکرٹریان کو فعال کریں اور ہر موصی ان کے رابطے میں ہو۔بعض دفعہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی معاملے میں کسی شخص کے بارے میں رپورٹ منگوائی جاتی ہے اور وہ شخص موصی ہوتا ہے۔رپورٹ میں ذکر کر دیا جاتا ہے کہ اس نے اتنے عرصے سے وصیت کا چندہ نہیں دیا۔جب پوچھا جائے کہ وصیت کا چندہ نہیں دیا تو وصیت کس طرح قائم ہے ؟ تو پھر تحقیق کرنے پر پتا چلتا ہے کہ موصی کا قصور نہیں تھا۔اس نے تو چندہ دیا تھا۔لیکن ریکارڈ رکھنے والوں نے، دفتر نے صحیح ریکارڈ نہیں رکھا۔ایک تو ایسی رپورٹ بلا وجہ موصی کو پریشان کرنے کا موجب بنتی ہے۔دوسرے جماعتی نظام کی کمزوری کا بھی برا اثر پڑتا ہے۔اب تو ٹھوس حسابات کا انتظام ہو چکا ہے۔بڑا systematic طریقہ ہے۔کمپیوٹر ہیں، سب کچھ ہیں۔ایسی غلطی ہونی نہیں چاہئے۔ہر ملک کے سیکر ٹریان وصایا اور سیکر ٹریان مال اپنے ملک کی ہر جماعت کے متعلقہ سیکر ٹریان کو فعال کریں اور امرائے جماعت کا بھی یہ کام ہے کہ