خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 392
خطبات مسرور جلد 14 392 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 پس یہ ایسی نصیحت ہے جو عہدیداروں اور افراد جماعت کے درمیان بھی تعلقات میں خوبصورتی پیدا کرتی ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں آپس میں افراد جماعت میں بھی ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کی روح پیدا ہوتی ہے۔پس عہدیداروں کی اور خاص طور پر امراء، صدران اور تربیت کے شعبوں اور فیصلہ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے طریق سوچیں۔لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے اندر رہتے ہوئے یہ طریق اختیار کرنے ہیں۔دنیاداروں کی طرح نہیں کہ آسانیاں پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حکموں کو بھول جائیں۔ہم نے شریعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے، خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے بندوں کے بھی حق ادا کرنے ہیں اور اپنے عہدوں اور اپنی امانتوں کی بھی حفاظت کرنی ہے۔پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کی کتاب کو ہر عہدیدار کو دیکھنا چاہئے اور اپنے شعبے کے کاموں کا علم حاصل کرنا چاہئے۔ہر ایک کو اپنی حدود کا علم ہونا چاہئے۔بعض دفعہ عہدیداروں کو اپنی حدود کا بھی پتا نہیں ہوتا۔ایک شعبہ ایک کام کر رہا ہوتا ہے جبکہ قواعد وضوابط میں دوسرے شعبہ میں وہ کام لکھا ہو تا ہے۔یا بعض دفعہ ایسا باریک فرق کاموں کے بارے میں ہوتا ہے جس پر غور نہ کرتے ہوئے دو شعبے ایک دوسرے کی حد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔گزشتہ دنوں میں میری یہاں یو کے (UK) کی مجلس عاملہ سے بھی میٹنگ تھی وہاں بھی مجھے احساس ہوا کہ اس بار یک فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بلاوجہ کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔اگر قواعد کو پڑھیں تو اس طرح وقت ضائع نہ ہو۔مثلاً تبلیغ کے شعبہ نے تبلیغی مہم بھی چلانی ہے اور رابطے بھی کرنے ہیں۔رابطوں سے ہی تبلیغ آگے پھیلے گی۔اسی طرح شعبہ امور خارجہ ہے اس نے بھی رابطے کرنے ہیں اور جماعت کا تعارف بھی کروانا ہے۔دونوں کا دائرہ علیحدہ ہے۔ایک نے تبلیغی مقصد کے لئے کام کرنا ہے۔دوسرے نے اپنی پبلک ریلیشن (Public Relation) کے لئے یہ کام کرنا ہے۔تعلقات بڑھانے کے لئے یہ کام کرنا ہے۔اصل مقصد تو جماعت کا تعارف اور دین کی طرف رہنمائی ہے تاکہ دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف لا کر ہم ان کی دنیا و عاقبت بھی سنوارنے کی کوشش کریں اور دنیا کے امن کی صور تحال کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔دنیاوی طور پر کوئی کریڈٹ لینا تو ہمارا مقصد نہیں ہے۔اصل مقصد تو خدا تعالیٰ کو خوش کرنا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔اگر شعبے آپس میں تعاون سے کام کریں تو نتیجہ کئی گنا بہتر نکل سکتا ہے۔پھر اکثر جگہوں سے اس بات کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ شعبوں کے بجٹ صحیح طرح مختص نہیں کئے