خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 391
خطبات مسرور جلد 14 391 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 میر اعلم جماعت کے کاموں کو چلا رہا ہے یا میر اتجربہ اور علم جماعت کے کاموں کو چلا سکتا ہے۔جماعت کے کاموں کو خدا تعالیٰ کا فضل چلا رہا ہے۔ہماری بہت ساری کمزوریاں، کمیاں ایسی ہیں کہ اگر دنیاوی کام ہو تو ان میں وہ برکت پڑہی نہیں سکتی۔ان کے وہ اچھے نتیجے نکل ہی نہیں سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ پر وہ پوشی فرماتا ہے اور خود فرشتوں کے ذریعہ سے مدد فرماتا ہے۔تبلیغ کے مثلاً کام ہیں۔اس میں ہی ان مغربی ممالک میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہاں پلے بڑھے ایسے نوجوان کارکن مہیا کر دیئے ہیں جنہوں نے اپنے طور پر دینی علم حاصل کیا ہے اور پھر مخالفین احمدیت کا منہ بند کرتے ہیں اور ایسے جواب دیتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور پھر بہت سارے ایسے نوجوان ہیں جن کے اس طرح کے جو ابوں سے مخالفین کو راہِ فرار کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔پس عہدیدار خدمت دین کے موقع کو فضل الہی سمجھیں ، نہ کہ اپنے کسی تجربے یا لیاقت اور قابلیت کی وجہ۔پھر ایک وصف عہدیداران میں جو ہونا چاہئے وہ بشاشت ہے اور خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا۔(البقرة:84 ) یعنی اور لوگوں کے ساتھ نرمی سے بات کیا کرو۔اور ان سے خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔پس یہ بھی ایک بنیادی خُلق ہے جو عہدیداروں میں بہت زیادہ ہونا چاہئے۔اپنے ماتحتوں سے، اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے بھی جب بات چیت کریں اور اسی طرح جب دوسرے لوگوں سے بھی بات کریں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔بعض دفعہ انتظامی معاملات کی وجہ سے سختی سے بات کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن یہ ضرورت انتہائی قدم ہے اور اگر پیار سے کسی کو سمجھایا جائے اور عہد یدار لوگوں کو یہ احساس دلا دیں کہ ہم تمہارے ہمدرد ہیں تو ننانوے فیصد ایسے لوگ ہیں جو سمجھ جاتے ہیں اور جماعت سے اس لئے تعاون کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں کہ جماعت سے ان کو ایک تعلق ہے۔لیکن بڑی اور اہم شرط یہی ہے کہ لوگوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے یا لوگوں کو یہ احساس ہو جائے کہ عہدیدار ہمارے ہمدرد ہیں۔نرمی سے لوگوں سے بات کریں۔کسی کی غلطی پر شروع میں ہی اس طرح پکڑ نہ کر لیں کہ دوسرے کو اپنی صفائی کا صحیح طرح موقع ہی نہ ملے۔ہاں جو عادی ہیں، بار بار کرنے والے ہیں، بات بات پر فتنہ اور فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے ساتھ سختی بھی کرنی پڑتی ہے لیکن اس کے لئے پوری طرح تحقیق ہونی چاہئے۔اور پھر ساتھ ہی یہ سختی بھی ذاتی عناد کی شکل اختیار کرنے والی نہیں ہونی چاہئے بلکہ اصلاح کے لئے ہونی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اپنے مقرر کردہ یمن کے والیوں کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنا۔مشکلیں نہ پیدا کرنا۔اور محبت اور خوشی پھیلانا۔نفرت کو نہ پہنچنے دینا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 638 حدیث 19935 مسند ابو موسى الاشعرى مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء)