خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 390
خطبات مسرور جلد 14 390 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 رکھتے ہوئے یہ ہونا چاہئے۔اس کے لئے دعا سے اللہ تعالیٰ کی مدد بھی لینی چاہئے۔صرف اپنی عقل پر بھروسہ نہ کریں۔واضح ہو کہ یہ حق صدرانِ جماعت کو نہیں۔جہاں نیشنل صدر ہیں وہاں بھی ان کو نہیں کہ عاملہ کی رائے کو رڈ کرتے ہوئے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کریں۔اپنے اپنے دائرہ کار کو سمجھنے کے لئے عہدیداران کے لئے ضروری ہے کہ قواعد و ضوابط کو پڑھیں اور سمجھیں۔اگر قواعد وضوابط کے مطابق عمل کریں گے تو بعض چھوٹے چھوٹے مسائل جو عاملہ کے اندر یا افراد جماعت کے لئے بے چینی کا باعث بن جاتے ہیں وہ نہیں بنیں گے۔پھر ایک خصوصیت عہدیداران کی یہ بھی ہونی چاہئے کہ وہ ماتحتوں سے حسن سلوک کریں۔جماعت کے اکثر کام تو رضا کارانہ ہوتے ہیں۔افراد جماعت جماعتی کام کے لئے وقت دیتے ہیں۔اس لئے وقت دیتے ہیں کہ وہ خد اتعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔اس لئے وقت دیتے ہیں کہ ان کو جماعت سے تعلق اور محبت ہے۔پس عہدیداروں کو بھی اپنے کام کرنے والوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے اور ان سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہئے اور یہی اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے۔پھر اس حسن سلوک کے ساتھ اپنے نائین اور ماتحتوں کو کام سکھانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے تا کہ جماعتی کام بہتر طور پر چلانے کے لئے ہمیشہ کارکن مہیا ہوتے رہیں۔اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ جماعت کے کاموں کو اللہ تعالیٰ چلاتا ہے۔لیکن اگر افسران عہدیداران جن کو کام کا تجربہ ہے کام کرنے والوں کی دوسری لائن تیار کرتے ہیں تو ان کو اس کام کا بھی ثواب مل جائے گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ ہی مجھے ، نہ پہلے خلفاء کو کبھی یہ فکر ہوئی کہ جماعتی کام کیسے چلیں گے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ ہے۔وہ انشاء اللہ تعالیٰ کام کرنے والے مخلصین مہیا کر تا رہے گا۔(ماخوذ از براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ 267 حاشیہ) حضرت خلیفة المسیح الثالث " کے وقت میں ایک عہدیدار کا خیال تھا کہ میری حکمت عملی اور میری محنت کی وجہ سے مالی نظام بہت عمدہ طور پر چل رہا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کو جب یہ پتا چلا تو آپ نے اس کو ہٹا کر ایک ایسے شخص کو اس کام پر مقرر کر دیا جس کو مال کی الف ب بھی نہیں پتا تھی۔لیکن کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور خلیفہ وقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ہے اس وجہ سے نئے آنے والے افسر جس کو کچھ بھی نہیں پتا تھا اس کے کام میں اتنی برکت پڑی کہ اس سے پہلے کبھی تصور بھی نہیں تھا۔پس عہدیداروں کو تو اللہ تعالیٰ موقع دیتا ہے۔جماعتی کارکنوں کو تو اللہ تعالیٰ موقع دیتا ہے۔واقفین زندگی کو تو خدا تعالیٰ موقع دیتا ہے کہ وہ جماعت کی اور دین کی خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں ورنہ کام تو خود اللہ تعالیٰ کر رہا ہے اور یہ اس کا وعدہ ہے۔اس لئے کسی کے دل میں یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ میر اتجربہ اور