خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 389

خطبات مسرور جلد 14 389 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 بڑائی پیدا ہوتی ہے یا تکبر پیدا ہو تا ہے تو اسے یادرکھنا چاہئے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ سے دور کرتی ہے اور جب خدا تعالیٰ سے انسان دور ہو جاتا ہے تو پھر کام میں برکت نہیں رہتی۔اور دین کا کام تو ہے ہی خالصۂ خد اتعالیٰ کی رضا کے لئے اور جب خدا تعالیٰ کی رضا ہی نہیں رہی تو پھر ایسا شخص جماعت کے لئے بجائے فائدے کے نقصان کا موجب بن جاتا ہے۔پس ہمیشہ عہدیداروں کو خاص طور پر اس لحاظ سے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ ان میں عاجزی ہے یا نہیں۔اور ہے تو کس حد تک ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنازیادہ کوئی عاجزی اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔(صحیح مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب استحباب العفو والتواضع حديث 6487) پس ہر عہدیدار کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کو اگر اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا موقع دیا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور اس احسان کی شکر گزاری اس میں مزید عاجزی اور انکساری کا پید اہونا ہے۔اگر یہ عاجزی اور انکساری مزید پیدا نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے احسان کا شکر ادا نہیں ہو تا۔بسا اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ عام حالات میں اگر ملیں تو بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔لوگوں سے بھی صحیح طریق سے مل رہے ہوتے ہیں۔لیکن جب کسی کا اپنے ماتحت یا عام آدمی سے اختلاف رائے ہو جائے تو فوراً ان کی افسرانہ رگ جاگ جاتی ہے اور بڑے عہدیدار ہونے کاز عم اپنے ماتحت کے ساتھ متکبرانہ رویے کا اظہار کروادیتا ہے۔پس عاجزی یہ نہیں کہ جب تک کوئی جی حضوری کرتارہے، کسی نے اختلاف نہیں کیا تو اس وقت تک عاجزی کا اظہار ہو۔یہ بناوٹی عاجزی ہے۔اصل حقیقت اس وقت کھلتی ہے جب اختلاف رائے ہو یا ما تحت مرضی کے خلاف بات کر دے تو پھر انصاف پر قائم رہتے ہوئے اس رائے کا اچھی طرح جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے۔پس اس عاجزی کے ساتھ بلند حوصلگی کا بھی اظہار ہو گا اور جب یہ ہو گا تو یہ عاجزی حقیقی عاجزی کہلائے گی۔ہمیشہ عہد یدار کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم سامنے رکھنا چاہئے کہ وَلَا تُصَعِرُ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا (لقمان: 19) اور اپنے گال لوگوں کے سامنے غصہ سے مت پھلاؤ۔( اپنا منہ نہ پھلاؤ غصہ سے) اور زمین میں تکبر سے مت چلو۔اختلاف رائے کی میں نے بات کی ہے تو اس بارے میں یہ بھی بتا دوں کہ قواعد بیشک امیر جماعت کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ بعض دفعہ وہ عاملہ کی رائے کو ر ڈ کر کے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کرے لیکن ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مشورے سے، اکثریت رائے سے ہی فیصلے ہوں اور کام ہوں۔بعض جگہ امراء اس حق کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔اس حق کا استعمال انتہائی صورت میں ہونا چاہئے۔جہاں یہ پتا ہو کہ جماعت کا یہ مفاد ہے تو پھر وہاں عاملہ پر واضح بھی کر دیا جائے۔وسیع تر جماعتی مفاد کو سامنے