خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 388

خطبات مسرور جلد 14 388 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 فرمایا ہے۔ایک جگہ فرمایا کہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى اَنْفُسِهِمْ - (الحشر : 10) کہ مومن جو ہیں اپنے دینی بھائیوں کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں۔یہ مثال انصار نے مہاجرین کے لئے قائم کی۔اور یہی ایک نمونہ ہے ہمارے لئے۔یہ نفسوں کو ترجیح دینا تو بڑی دُور کی بات ہے اور بڑی بات ہے ، بعض دفعہ تو کسی کا جو حق ہے وہ بھی پوری طرح ادا نہیں کیا جاتا۔لوگوں کے بعض معاملات عہدیداروں کے پاس یا مرکز میں رپورٹ بھجوانے کے لئے آتے ہیں یا مرکز سے رپورٹ بھیجوانے کے لئے بعض معاملات بھیجے جاتے ہیں تو بڑی بے احتیاطی سے معاملے کی رپورٹ دی جاتی ہے۔صحیح رنگ میں تحقیق نہیں کی جاتی اور رپورٹ بھجوائی جاتی ہے یا معاملے کو اتنا لٹکا دیا جاتا ہے کہ اگر کسی ضرور حمند کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کوئی درخواست ہے تو وقت پر ضرورت پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس ضرور تمند کو نقصان ہو جاتا ہے یا تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔بعض عہدیداران اپنی مصروفیت کا بھی عذر پیش کر دیتے ہیں۔بعض کے پاس کوئی عذر نہیں ہو تا صرف عدم تو جنگی ہوتی ہے۔اگر ان کے اپنے معاملے ہوں یا کسی قریبی کے معاملے ہوں تو ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔پس حقیقی خدمت کا جذبہ، قربانی کا جذبہ، اپنی امانت کا صحیح حق ادا کرنا تو یہ ہے کہ ایک فکر کے ساتھ دوسرے کے کام آیا جائے اور جب یہ قربانی کا مادہ ہو اور دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر کام کیا جائے گا تو جماعت کے افراد کا بھی معیار قربانی بڑھے گا۔ایک دوسرے کے حق مارنے کی بجائے حق دینے کی طرف توجہ ہو گی۔ہم غیروں کے سامنے تو یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں امن تب قائم ہو سکتا ہے جب ہر سطح پر حق لینے اور حق غصب کرنے کی بجائے حق دینے اور قربانی کا جذبہ پید اہو لیکن ہمارے اندر اگر یہ معیار نہیں تو ہم ایک ایسا کام کر رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہے۔پھر ایک وصف جو خاص طور پر عہدیداروں کے اندر ہونا چاہئے وہ عاجزی ہے۔اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا۔(الفرقان: 64) کہ وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔پس اس کی بھی اعلیٰ مثال ہمارے عہدیداروں میں ہونی چاہئے۔جتنا بڑا کسی کے پاس عہدہ ہے اتنی ہی زیادہ اسے خدمت کے جذبے سے لوگوں کے ملنے کے لحاظ سے عاجزی دکھانی چاہئے اور یہی بڑا پن ہے۔لوگ دیکھتے بھی ہیں اور محسوس بھی کرتے ہیں کہ عہدیداروں کے رویے کیا ہیں۔بعض دفعہ لوگ مجھے لکھ بھی دیتے ہیں کہ فلاں عہدیدار کا رویہ ایسا تھا لیکن آج مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اس عہدیدار نے مجھے نہ صرف سلام کیا بلکہ میر احال بھی پوچھا اور بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا اور اس کے رویے کو دیکھ کر خوشی ہوئی اور اس سے اس عہد یدار کا بڑا پن ظاہر ہوا۔پس اکثریت افراد جماعت کی تو ایسی ہے کہ وہ عہدیداروں کے پیار، نرمی اور شفقت کے سلوک سے ہی خوش ہو کر ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اگر کسی عہدیدار کے دل میں اپنے عہدے کی وجہ سے کسی بھی قسم کی