خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 387
خطبات مسرور جلد 14 387 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 اور کو تاہی تو نہیں ہو رہی ؟ کیونکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ان الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا - (بنی اسرائیل:35) کہ ہر عہد کے متعلق ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہو گی۔یہ عبادت تو ایک بنیادی چیز ہے اور یہی انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اور اس کا حق تو ہم نے ادا کرنا ہی ہے۔اس میں سستی تو ، خاص طور پر عہدیداروں کی طرف سے بالکل نہیں ہونی چاہئے بلکہ کسی بھی حقیقی مومن کی طرف سے نہیں ہونی چاہیئے۔اس کے علاوہ بھی بعض باتیں ہیں جن کا عہدیداروں کو خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے اور یہ باتیں لوگوں کے حقوق اور افراد جماعت کے ساتھ عہدیداروں کے رویوں سے تعلق رکھتی ہیں اور اسی طرح یہ باتیں عہدیداروں کے عہدوں سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔کوئی عہدیدار افسر بننے کے تصور سے یا بنائے جانے کے تصور سے کسی خدمت پر مامور نہیں کیا جاتا بلکہ اسلام میں تو عہد یدار کا تصور ہی بالکل مختلف ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ قوم کا سر دار قوم کا خادم ہو تا ہے۔(كنز العمال كتاب السفر، الفصل الثانى فى آداب السفر، جزء 6 صفحه 302 حدیث 17513 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) پس ایک عہدیدار کالوگوں کے معاملے میں اپنی امانت کا حق ادا کرنا اس کا قوم کا خادم بن کر رہنا ہے۔اور یہ حالت اس وقت پید اہو سکتی ہے جب انسان میں قربانی کا مادہ ہو۔اس میں عاجزی اور انکساری ہو۔اس کا صبر کا معیار دوسروں سے اونچا ہو۔بعض دفعہ عہدیداروں کو بعض باتیں بھی سننی پڑتی ہیں۔اگر سننی پڑیں تو سن لینی چاہئیں۔اپنا یہ جائزہ تو عہدیدار خود ہی لے سکتے ہیں کہ ان کا برداشت کا یہ پیمانہ کتنا اونچا ہے، کس حد تک ہے اور عاجزی کی حالت ان کی کس حد تک ہے۔بعض دفعہ ایسے عہدیداران کے معاملات بھی سامنے آجاتے ہیں جن میں برداشت بالکل بھی نہیں ہوتی اور اگر کوئی دوسرا بد تمیزی کر رہا ہے تو یہ بھی تو تکار شروع کر دیتے ہیں۔اگر کوئی عام شخص بد تمیز ہے تو اس سے اسے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کے اخلاق تو یہی کہیں گے بڑا بد اخلاق ہے۔اس کے اخلاق گرے ہوئے ہیں۔لیکن جب عہدیدار کے منہ سے غلط الفاظ لوگوں کے سامنے نکلتے ہیں تو عہدیدار کی اپنی عزت اور و قار پر حرف آتا ہے اور ساتھ ہی جماعت کے افراد پر بھی اثر پڑتا ہے۔جماعت کاجو معیار ہو نا چاہئے اور جس معیار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں اس میں اگر کہیں بھی ایک بھی ایسی مثال ہو جائے تو جماعت کی بدنامی کا موجب بنتی ہے اور بن سکتی ہے اور یہ مثالیں بعض جگہوں پہ ملتی ہیں۔مسجدوں میں بھی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ باتیں بچوں اور نوجوانوں پر انتہائی برا اثر ڈالتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے اور قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ نے کس طرح ذکر