خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 386
خطبات مسرور جلد 14 386 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑا حق عبادت کا ہے اور اس کے لئے مردوں کو یہ حکم ہے کہ نماز کا قیام کرو اور نمازوں کا قیام با جماعت نماز کی ادائیگی ہے۔پس امراء، صدران، عہدیداران اپنی نمازوں کی حفاظت کر کے اس کے قیام اور باجماعت ادا ئیگی کی بھر پور کوشش کریں تو اس سے جہاں ہماری مسجدیں آباد ہوں گی، نماز سینٹر آباد ہوں گے وہاں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بھی حاصل کرنے والے ہوں گے اور اپنے عملی نمونے سے افراد جماعت کی بھی تربیت کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بھی ہوں گے۔ان کے کاموں میں آسانیاں بھی پیدا ہوں گی۔صرف باتیں کرنے والے نہیں ہوں گے۔پس کام کرنے والے پہلے اپنے جائزے لیں کہ کس حد تک ان کے قول و فعل ایک ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:3) یعنی اے مومنو اوہ باتیں کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " یہ آیت ہی بتلاتی ہے کہ دنیا میں کہہ کر خود نہ کرنے والے بھی موجود تھے اور ہیں اور ہوں گے۔" فرمایا کہ " تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ( ملفوظات جلد اول صفحہ 67) ہوتی۔" پھر فرمایا" یا در کھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ ہو۔" اور " محض باتیں عند ( ملفوظات جلد اول صفحہ 77) اللہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں۔" عمل کے علاوہ اگر اور باتیں ہیں تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق کھول کر بتایا کہ ہمارے عمل اور قول میں تضاد نہیں ہو نا چاہئے۔پس اس بات کو سامنے رکھ کر اپنے جائزے لینے والے سب سے زیادہ ہمارے عہدیدار ہونے چاہئیں۔جہاں فاصلے زیادہ ہیں یا چند گھر ہیں اور مسجد یا سینٹر کی سہولت موجود نہیں وہاں گھروں میں نمازوں کا اہتمام ہو سکتا ہے اور عملاً یہ مشکل نہیں ہے۔بہت سے احمدی ہیں جو اس کی پابندی کرتے ہیں۔ان کے پاس کوئی با قاعدہ خدمت بھی نہیں ہے۔کسی عاملہ کے ممبر بھی نہیں ہیں لیکن اپنے گھروں میں ارد گرد کے احمدیوں کو جمع کر کے نماز باجماعت کا اہتمام کرتے ہیں۔پس اگر احساس ہو تو سب کچھ ہو سکتا ہے اور ہمارے ہر عہد یدار میں نماز باجماعت کی ادائیگی کا احساس ہونا چاہئے ورنہ امانتوں کا حق ادا کرنے والے نہیں ہوں گے جس کی قرآن کریم میں بار بار تلقین کی گئی ہے۔پس ہمیشہ عہدیداران کو یہ بات سامنے رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حقیقی مومن کی نشانی ہی یہ بتائی ہے کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ان کی نگرانی کرنے والے ہیں۔یہ دیکھنے والے ہیں کہ کہیں ہمارے سپر دجو امانتیں کی گئی ہیں اور جو ہم نے خدمت کرنے کا عہد کیا ہے اس میں ہماری طرف سے کوئی کمی