خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 385
خطبات مسرور جلد 14 385 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2016 مقدم کرے گا اور جب ایک شخص دین کی خدمت یا بحیثیت عہدیدار کسی خدمت کے کرنے کو قبول کرتا ہے یا اس خدمت پر مامور کیا جاتا ہے تو اس پر دوسروں سے زیادہ بڑھ کر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کرے اور یاد رکھے کہ یہ عہد اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے عہدوں کو پورا کرنے کا کئی جگہ قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔پس ہمیشہ یادرکھیں اللہ تعالیٰ نے یہ بڑا واضح فرمایا ہے کہ تمہارے سپرد کی گئی امانتیں جن کو تم قبول کرتے ہو تمہارے عہد ہیں پس اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کو پورا کرو۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول کے بچے اور تقویٰ پر چلنے والوں کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا۔(البقرة:178) یعنی اپنے عہد کو جب کوئی عہد کر لیں پورا کرنے والے ہیں۔پس یہ خاص طور پر اُن لوگوں کا ایک بنیادی امتیاز ہونا چاہئے جو جماعتی کاموں کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سچائی پر قائم رہتے ہوئے اور اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھاتے ہوئے اپنے کام سر انجام دیں۔اگر ان کے سچائی کے معیار میں ذرا سا بھی جھول ہے ، کمی ہے، اگر ان کے تقویٰ کے معیار ایک عام فرد جماعت کے لئے نمونہ نہیں تو وہ اپنے عہد ، اپنے عہدے، اپنی امانت کے حق کو ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔پس امراء، صدران سب سے پہلے اپنی عاملہ کے سامنے بھی اور افراد جماعت کے سامنے بھی اپنے نمونے قائم کریں۔سیکر ٹریان تربیت ہیں جن کے سپر د تربیت کا کام ہے اور تربیت کا کام اسی وقت صحیح رنگ میں ہو سکتا ہے جب نمونے قائم ہوں۔جو کام کرنے والا ہے، جس کی ذمہ داری ہے، دوسروں کو نصیحت کرنے والا ہے تو خو د بھی ان کاموں پر عمل کرنے والا ہو۔پس سیکرٹریان تربیت بھی افراد جماعت کے سامنے اپنے نمونے قائم کریں کہ جماعت کی تربیت کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔میں کئی موقعوں پر ذکر کر چکا ہوں کہ اگر شعبہ تربیت فعال ہو جائے تو بہت سے دوسرے شعبوں کے کام خود بخود ہو جاتے ہیں۔جتنا افرادِ جماعت کی تربیت کا معیار اونچا ہو گا اتنا ہی دوسرے شعبوں کا کام آسان ہو گا۔مثلاً سیکرٹری مال کا کام آسان ہو گا۔سیکرٹری امور عامہ کا کام آسان ہو گا۔سیکرٹری تبلیغ کا کام آسان ہو گا۔اسی طرح دوسرے شعبوں کا، قضاء کا کام آسان ہو گا۔میں اکثر مختلف جگہوں پر عاملہ کی میٹنگ میں کہا کرتا ہوں کہ تربیت کا کام پہلے اپنے گھر سے شروع کریں اور یہ گھر صرف سیکرٹری تربیت کا گھر نہیں ہے بلکہ عاملہ کے ہر ممبر کا گھر ہے اور مجلس عاملہ سب سے بڑھ کر ہے کہ وہ اپنی تربیت کرے۔امیر جماعت، صدر جماعت اور سیکرٹری تربیت جو بھی پروگرام بناتے ہیں ان کو سب سے پہلے اپنی عاملہ کو دیکھنا چاہئے کہ وہ ان پروگراموں پر عمل کر رہی ہے کہ نہیں۔خدا تعالیٰ کے جو بنیادی احکام ہیں اور انسان کی پیدائش کا جو مقصد ہے اسے عاملہ کے ممبران پورا کر رہے ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر تقویٰ نہیں۔