خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 382

خطبات مسرور جلد 14 382 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2016 دفن کر دو گے۔میرے لئے کوئی زیادہ فرق پیدا نہیں ہو گا۔" ( الفضل 23 مئی 1943 ء جلد 1 3 نمبر 122 صفحہ 6) تو حقیقی مومن کی یہ سوچ ہوتی ہے۔پھر ایک مثال آپ دیتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت کسی شادی میں شامل ہوئی۔وہ بخیل تھی۔کنجوس عورت تھی لیکن اس کی بھاوج حوصلے والی تھی۔نند، بھا بھی دونوں شادی میں شامل ہوئے۔وہ تو کنجوس تھی لیکن بھا بھی اس کی ذرا حوصلے والی تھی۔حوصلے سے مراد ہے تحفہ دینے میں حوصلہ رکھتی تھی۔اس عورت نے اس شادی پہ ایک روپے کا تحفہ دیا مگر اس کی بھاوج نے بیس روپیہ کا۔جب وہ واپس آئیں تو کسی نے اس کنجوس عورت سے پوچھا کہ تم نے شادی کے موقع پر کیا خرچ کیا؟ تو اس نے کہا کہ میں نے اور بھاوج نے اکیس روپے دیئے۔اس کی مثال چندوں پر منطبق کرتے ہوئے آپؐ فرماتے ہیں کہ بعض جماعتوں میں بعض افراد ہیں وہ کافی بڑھ کر چندہ دیتے ہیں۔ان کے خاص چندوں کو جماعتوں کا اپنا طرف منسوب کر دینا ایسا ہی ہے جیسے اس بخیل عورت کا یہ کہنا کہ میں نے اور بھاوج نے اکیس روپے دیئے تھے۔(ماخوذاز الفضل 15 جون 1944ء جلد 32 نمبر 138 صفحہ 4) لیکن بعض ایسے بھی امیر لوگ ہیں جو کنجوس ہوتے ہیں اور جماعتوں کے مجموعی چندے کو اپنی طرف منسوب کر لیتے ہیں۔یہ بھی مثالیں سامنے آتی ہیں۔اگر منسوب نہیں کرتے تو اظہار ضرور کرتے ہیں کہ ہماری جماعت نے اتنا دیا۔جیسے ہماری جماعت میں سب سے زیادہ بڑھ کے وہی چندہ دینے والے تھے۔حالانکہ اکثریت ان میں سے وہ ہوتی ہے جو غریب ہوتے ہیں جنہوں نے چندہ دیا اور امیر اس نسبت سے نہیں دے رہے ہوتے۔ایک دفعہ کھیل میں بعض غلط باتیں ہوئیں۔دین کا خیال نہیں رکھا گیا۔سلسلہ کی روایات کا خیال نہیں رکھا گیا۔اس پر تنبیہ کرتے ہوئے آپ نے ان کو فرمایا کہ " دیکھو ہنسی اور مذاق کرنا جائز ہے۔"منع نہیں ہے۔"رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مذاق کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی مذاق کر لیتے تھے۔ہم بھی مذاق کر لیتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم مذاق نہیں کرتے۔ہم سو دفعہ مذاق کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں سے کرتے ہیں، اپنی بیویوں سے کرتے ہیں۔" قریبیوں سے کرتے ہیں "لیکن اس طرح نہیں کہ اس میں کسی کی تحقیر کارنگ ہو۔" اگر کسی کی تحقیر ہو۔اس کی عزت نفس متاثر ہو رہی ہو تو ایسا مذاق صحیح نہیں ہے۔"اگر منہ سے ایسا کلمہ نکل جائے جس میں تحقیر کا رنگ پایا جاتا ہو تو ہم استغفار کرتے ہیں۔" اور یہ ہر ایک کو کرنا چاہئے۔اگر کسی سے غلطی سے کسی کا مذاق ایسے رنگ میں ہو جائے جو اس کو بہت برا لگے یا اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہو " اور سمجھتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی۔" اس لئے استغفار کرنا چاہئے۔پس ایک کھیل کا حوالہ دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ وہاں یہ کھیل ہو رہی تھی۔اس لحاظ سے اس میں ایک بات ہوئی۔فرماتے ہیں کہ میں کھیلوں کو بر انہیں مناتا۔ہنسنا