خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 381
خطبات مسرور جلد 14 381 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2016 قبول ہوتی ہیں، تو ہمیں یہ ماننے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا کہ ٹھیک ہے ہم غلطی پر ہیں۔لیکن اگر تم یہ کہو کہ نشان پورے نہیں ہو رہے تو یہ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر بھی اعتراض کر رہے ہو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں لیکن ان کا یہ حال ہے کہ "مگر یہ لوگ تو دروازہ ہی بند کرتے ہیں۔" الفضل مورخہ 12 جولائی 1940ء، 12 وفا1319 ہش جلد 28 نمبر 157 صفحہ 6) کوئی بات سننا ہی نہیں چاہتے۔کوئی عقل کی بات کرنا ہی نہیں چاہتے۔بعض چھوٹے چھوٹے مزید واقعات ہیں۔مثالیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے آپ نے بیان فرمائیں۔اس میں سے ایک کبری کی مثال ہے۔فرماتے ہیں کہ "حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک کبڑی کی مثال سنایا کرتے تھے۔" اس کے کمر پہ گب نکلا ہوا تھا۔" کہ اس سے کسی نے پوچھا کہ آیا تو یہ چاہتی ہے کہ تیری کمر سیدھی ہو جائے یا باقی لوگ بھی کبڑے ہو جائیں تو جیسا کہ بعض طبیعتیں ضدی ہوتی ہیں۔"حسد بھی رکھتی ہیں " اس نے آگے سے یہ جواب دیا کہ مد تیں گزر گئیں۔میں کبڑی ہی رہی اور لوگ میرے کبڑے پن پہ بنتے اور مذاق کرتے رہے۔اب تو یہ سیدھا ہونے سے رہا۔اگب میراجو ہے یہ تو ایسا ہی رہنا ہے۔اب تو میں بوڑھی ہو گئی۔" مزا تو جب ہے کہ یہ لوگ "سارے جو ہیں " یہ بھی کبڑے ہوں اور میں بھی ان پر ہنس کے جی ٹھنڈا کروں۔" تو آپ کہتے ہیں کہ " اسی طرح کی بعض حاسد طبیعتیں ہوتی ہیں۔"حسد کرنے والی طبیعتیں ہوتی ہیں " انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ ان کی تکلیف دور ہو جائے بلکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسر ا تکلیف میں مبتلا ہو جائے۔" (الفضل 2 اگست 1961ءجلد5/15 نمبر 177 صفحہ 5) پس ایسے حاسدوں سے بچنے کی بھی ہمیں ہر ایک کو دعا کرنی چاہئے اور یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ ہم بھی کبھی ایسے حاسدوں میں شمار نہ ہوں جو اس قسم کی باتیں کرنے والے ہوں۔پھر ایک اندھے کی کہاوت بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ "حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی اندھا تھا جو رات کے وقت کسی دوسرے سے باتیں کر رہا تھا ایک اور شخص کی نیند خراب ہو رہی تھی۔وہ کہنے لگا حافظ جی سو جاؤ۔حافظ صاحب کہنے لگے ہمارا سونا کیا ہے۔چپ ہی ہو جانا ہے۔مطلب یہ کہ سونا آنکھیں بند کرنے اور خاموش ہو جانے کا نام ہوتا ہے۔میری آنکھیں تو پہلے ہی بند ہیں۔اب خاموش ہی ہو جاتا ہے اور کیا ہے ؟ تو میں ہو جاتا ہوں تو آپ فرماتے ہیں کہ " تو مومن کے لئے یہ حالات " جو تکلیف کے ہوتے ہیں یہ تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ میں تو پہلے ہی ان حالات کا عادی ہوں۔جیسے مومن کو دنیامارنا چاہتی ہے تو وہ کہتا ہے مجھے مار کر کیا لو گے۔میں تو پہلے ہی خدا تعالیٰ کے لئے مرا ہوا ہوں۔" اس بات پہ تیار ہوں کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے میں کروں گا۔اس کے لئے جان بھی میری حاضر ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ "دنیا موت سے گھبراتی ہے مگر ایک مومن کو جب دنیا مارنا چاہتی ہے تو وہ کچھ بھی نہیں گھبر اتا اور کہتا ہے کہ میں تو اسی دن مر گیا تھا جس دن میں نے اسلام قبول کیا تھا۔فرق صرف یہ ہے کہ آگے میں چلتا پھر تا مردہ تھا اور اب تم مجھے زمین کے نیچے