خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 380
خطبات مسرور جلد 14 380 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2016 کے خلاف باتیں کرنی شروع کر دیتے ہیں۔پھر قبولیت دعا کا راز کیا ہے اور اس بارے میں اس کی حکمت کو بتاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام " اسی قسم کے نشان دکھانے آئے تھے اور ایسے بندے پیدا کرنا آپ کا ایک مقصد تھا جن کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ دنیا میں بڑے بڑے انقلابات پیدا کر دے۔آپ نے "حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مچو پیش آن بر وی کار یک دعا باشد اس کا مطلب یہی ہے کہ جو ساری دنیا نہیں کر سکتی وہ ایک دعا سے ہو جاتا ہے۔مگر اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کو ضرور قبول کر لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صاحبزادہ مبارک احمد فوت ہوا۔مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہوئے۔آپ نے دعائیں بھی کیں مگر وہ فوت ہو گئے اور یہ بھی آپ کا ایک نشان ہے کیونکہ مرزا مبارک احمد صاحب کے متعلق آپ نے قبل از وقت بتا دیا تھا اور جب کوئی بات قبل از وقت کہہ دی جاتی ہے تو وہ نشان بن جاتی ہے۔پس نہ تو یہ ہوتا ہے کہ ہر دعا قبول ہو جاتی ہے اور نہ ہر رڈ ہوتی ہے۔ہاں جو دعا قبول کرنے کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔اسے کوئی رد نہیں کر سکتا۔" پھر دعاؤں کی قبولیت کی بات کرتے ہوئے پیغامیوں کے حضرت مصلح موعودؓ پہ ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: انہوں نے اعتراض کیا تھا کہ کیا نشان پورے ہوئے۔فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ کے جو فضل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوئے ان کا جاری رہنا ضروری ہے۔پیغامیوں کا یہ حق تو ہے کہ کہہ دیں کہ تمہارے ذریعہ جاری نہیں ہو سکتے۔" یعنی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں۔کہتے ہیں میرے بارے میں یہ کہہ دو کہ میرے ذریعہ یہ جاری نہیں ہو سکتے مگر یہ ضروری ہے کہ وہ میرے مقابلہ پر اپنے امام یا لیڈر کو پیش کریں اور کہیں کہ اس کے ذریعہ ان فضلوں کا اظہار ہوتا ہے۔اور اگر واقعی خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ آئندہ کے امور کے متعلق خبریں ظاہر کرے اور اس کی دعاؤں کو غیر معمولی طور پر سنے تو ہم مان لیں گے کہ ہم گو غلطی پر تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہے۔ایسے اعتراض نہ کرو جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر حرف آتا ہو۔تم ایک طرف مانتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔چاہے مانتے ہو کہ وہ مجدد کے طور پر تھے۔مانتے ہو کہ سچے تھے اور ان کی دعائیں بھی قبول ہوتی تھیں۔انہوں نے پیشگوئیاں بھی کیں۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر میری بات نہیں ماننی تو نہ مانو۔ایک تو اپنے کسی امام کو میرے سامنے پیش کرو۔کوئی لیڈر میرے سامنے پیش کرو اور پھر یہ ثابت کرو کہ اس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔اور اگر ثابت کر دیتے ہو کہ اس کی دعائیں