خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 379
خطبات مسرور جلد 14 379 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2016 اسلام پر حملہ کرنے والے لوگ، غیر احمدی سکالروں کے سامنے بعض باتیں کر کے ان کے دلائل رڈ کر دیتے ہیں یا ان کے پاس وہ دلائل نہیں۔لیکن جماعت کے پاس تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دیا ہوا علم کلام اتنا ہے کہ اگر اچھی طرح تیاری ہو تو کسی کا بھی منہ بند کیا جاسکتا ہے۔ان کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ بھی ہمارے لئے ضروری ہے تاکہ ہمارا دینی علم بھی بڑھے اور اس کے ساتھ ہی ان کتب کی وجہ سے ہماری روحانیت میں بھی ترقی ہوتی ہے۔پرانے لوگوں میں تبلیغ کا کس قدر شوق تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ "میں چھوٹا تھا کہ میں نے بچپن کے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ایک انجمن بنائی اور رسالہ " تشخیز الاذہان ہم نے جاری کیا۔" پھر فرماتے ہیں کہ " میرے اُس وقت کے دوستوں میں سے ایک چوہدری فتح محمد صاحب ہیں "جو بعد میں یہاں بھی یو کے (UK) میں مبلغ رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں " جن کی لڑکی چوہدری عبد اللہ خان صاحب کے گھر ہے۔" چوہدری عبد اللہ خان صاحب سے بیاہی ہوئی تھی۔چوہدری عبد اللہ خان صاحب، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔کہتے ہیں " ایک دفعہ چوہدری عبد اللہ خان صاحب کی بیوی مجھے کہنے لگی کہ اتنا جی کو " یعنی چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو "جب آپ نے ناظر اعلیٰ بنا دیا۔ایک وقت میں وہاں صدر انجمن احمدیہ کے ناظر اعلیٰ بھی بنائے گئے تھے، " تو وہ گھر میں بڑا افسوس کیا کرتے تھے کہ ہم نے تو اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے وقف کیا تھا اور انہوں نے ہمیں کرسیوں پر لا کر بٹھا دیا ہے۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں "دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں وہ لوگ بھی ہیں جو مجھے لکھتے ہیں کہ واقف زندگی کی قدر ہونی چاہئے۔" (الفضل مورخہ 22 اکتوبر 1955ء جلد 44/9 نمبر 247 صفحہ 6) پس اس میں یہ سبق بھی ہے کہ پرانے زمانے کے لوگوں کو تبلیغ کا کتنا شوق تھا اور اس کو دفتروں میں تعیناتی پر وہ ترجیح دیا کرتے تھے۔آجکل یہاں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں مرکز میں لگادیا جائے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جماعتوں کو جس طرح مربیان اور مبلغین کو دیکھنا چاہئے وہ اس طرح بعض جگہ پر نہیں دیکھے جاتے۔یعنی افراد جماعت جو ہیں اپنے مربیان اور مبلغین کا اس طرح خیال، لحاظ نہیں رکھتے جس طرح رکھنا چاہئے۔اور اس بارے میں اب بھی بعض جگہ سے شکایتیں آتی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی میں کہوں گا کہ مربیان اور مبلغین پر بھی یہ ذمہ داری ہے اور یہ بات ان پر بھی یہ ذمہ داری ڈال رہی ہے کہ ان کو جماعتوں میں اپنا و قار قائم رکھنے کے لئے علمی اور روحانی لحاظ سے بلند مقام حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ کبھی کسی فرد جماعت کو ان کے متعلق کسی قسم کی غلط بات کہنے کی جرات نہ ہو۔بعض جگہ بعض انتظامی لوگ مربیان کے بارے میں غلط باتیں کر جاتے ہیں۔جہاں مربی اصلاح کرنے کی کوشش کرتا ہے وہاں اس