خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 378
خطبات مسرور جلد 14 378 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2016 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کر کے ایک لیکچر تیار کرتے تھے۔پھر قادیان آکر کچھ حضرت خلیفہ اول سے پوچھتے اور کچھ دوسرے لوگوں سے اور اس طرح ایک لیکچر مکمل کر لیتے۔پھر اسے لے کر ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے اور خوب کامیاب ہوتے۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ "خواجہ صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر بارہ لیکچر آدمی کے پاس تیار ہو جائیں تو اس کی غیر معمولی شہرت ہو سکتی ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "انہوں نے ابھی سات لیکچر تیار کئے تھے کہ ولایت چلے گئے۔" یہاں انگلستان آگئے۔لیکن وہ ان سات لیکچروں سے ہی بہت مقبول ہو چکے تھے۔" حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک لیکچر بھی اچھی طرح تیار کر لیا جائے تو چونکہ وہ خوب یاد ہوتا ہے اس لئے لوگوں پر اس کا اچھا اثر ہو سکتا ہے۔" پس پہلی چیز تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب ہیں جن کو پڑھناضروری ہے۔پھر اس کو سمجھنا اور آگے اس سے لے کر لیکچر تیار کرنا۔حضرت مصلح موعودؓ پھر تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " پہلے زمانہ میں اسی طرح ہوتا تھا کہ صرف میر کا الگ استاد ہو تا تھا۔نحو میر کا الگ استاد ہو تا تھا۔پکی روٹی کا الگ استاد ہو تا تھا اور کچی روٹی کا الگ استاد ہو تا تھا۔" اب ایک زمانہ دوبارہ آگیا ہے جہاں سائنس نے ترقی کی ہے تو پھر س، specialities اور specialisation کا زمانہ شروع ہو چکا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "چاہئے بھی اسی طرح کہ جو لیکچر ار ہوں ان کو مضامین خوب تیار کر کے دیئے جائیں اور وہ باہر جا کر وہی لیکچر دیں۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سلسلہ کے مقصد کے مطابق تقریریں ہوں گی اور ہمیں یہاں بیٹھے بیٹھے پتا ہو گا کہ انہوں نے کیا بولنا ہے۔اصل لیکچر وہی ہوں گے اس کے علاوہ اگر مقامی طور پر ضرورت ہو تو تائیدی لیکچروں کے طور پر وہ اور کسی مضمون پر بھی بول سکتے ہیں۔" ( الفضل مورخہ 7 نومبر 1945ء جلد 33 نمبر 261 صفحہ 3) پس یہ رہنما اصول مبلغین کے لئے بھی ہے اور داعین الی اللہ کے لئے بھی اور ان لوگوں کے لئے بھی جو علمی نشستوں میں جاتے ہیں۔اگر لیکچر اس طرح تیار کیا گیا ہو تو بڑے بڑے پروفیسر اور بعض نام نہاد دین کے عالم اور بعض ایسے لوگ جو دین پر اعتراض بھی کرتے ہیں وہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔گزشتہ دنوں یہاں بھی شاید شعبہ تبلیغ کے تحت ایک پروگرام تھا جس میں اسرائیل سے ایک بڑے یہودی پروفیسر بھی شامل ہوئے تھے۔وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔اس میں ایک ہمارے نوجوان مربی نے بھی اچھی تیاری کر کے لیکچر دیا تھا۔پروفیسر صاحب اس سے بڑے متاثر ہوئے تھے۔پروفیسر صاحب نے وہاں بڑی ہوشیاری سے اسلام کے ، خلافت کے حق میں بعض باتیں کیں لیکن اسلام کے خلاف بھی کہا تو ہمارے اس نوجوان نے بڑے اچھے رنگ میں اس کا جواب دیا۔بعد میں پروفیسر صاحب مجھے ملنے یہاں بھی آئے اور کہنے لگے کہ تمہار اوہ مربی، وہ مقرر جو تھا بڑا ہوشیار ہے۔اصل میں تو