خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 377

خطبات مسرور جلد 14 377 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2016 اس بات کو دنیا کے باقی ممالک کو بھی اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کے کام کو کرنے اور اسے وسعت دینے کی ہمیں ہدایت فرمائی ہے۔یہ قرآن شریف کا بھی حکم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہی حکم دیا تھا۔لیکن ہمیں اس کے لئے ہر جگہ، ہر ملک میں مضبوط پلاننگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس سے اس کام کو مزید وسعت دی جاسکے۔اور پھر تبلیغ کے ساتھ ان لوگوں کو سنبھالنا بھی ایک بہت بڑا کام ہے جو بیعتیں کر کے جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔بعض جگہ تبلیغ تو ہو جاتی ہے، لوگ شامل بھی ہو جاتے ہیں لیکن پھر سنبھالے نہیں جاتے اور یوں بہت سے آئے ہوئے پھر ضائع ہو جاتے ہیں۔ہندوستان میں زیادہ تر دیہاتی لوگ، غریب لوگ احمدیت کو قبول کرتے ہیں اور جب مخالفین کی یورش ہوتی ہے تو بعض کمزور ایمان والے خوف سے کمزوری بھی دکھا دیتے ہیں۔اگر وہاں ہماری انتظامیہ ، کام کرنے والے، منصوبہ بندی کرنے والے جس طرح تبلیغ کے کاموں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اللہ کے فضل سے بڑا اچھا کام ہو رہا ہے۔علاوہ اصلاح و ارشاد کی مختلف نظارتوں کے ان کا ایک شعبہ وہاں نور الاسلام بھی کام کر رہا ہے جس کے مختلف ذرائع ہیں، فون کے ذریعہ سے اور دوسرے اخباروں کے ذریعہ سے تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔اسی طرح وقف جدید کی تبلیغ کی نظامت ہے ان کے ذریعہ سے بھی کام ہو رہا ہے۔ان کو ایسی جگہوں پر جہاں مخالفین پہنچ کر نو مبائعین کو ، نئے احمدیوں کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں وہاں جا کر ان نو مبائعین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ضلعی اور مرکزی نمائندے کو فور وہاں پہنچنا چاہئے جہاں سے بھی اطلاع ملے کہ یہاں کسی بھی قسم کی کسی احمدی کو تکلیف ملی ہے چاہے وہ چھوٹا سا گاؤں ہی ہو۔اسی طرح افریقہ کے ممالک میں بھی وہاں کے لوگوں کو ، مبلغین کو کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے بعد کے رابطوں میں بھی بہتری پیدا کریں اور مقامی لوگوں کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے بہتر منصوبہ بندی کریں۔کیونکہ وہاں بھی جیسا کہ میں نے شاید درس میں اور خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا کہ مخالفین احمدیت فوری طور پر پہنچتے ہیں کہ کس طرح ہم ان کو احمدیت سے متنفر کریں۔بہر حال ہر جگہ خاص طور پر جہاں زیادہ بیعتیں ہوتی ہیں اور غریب ممالک ہیں ان میں یہ ایک کام کرنے والا ہے۔پھر ایک واقعہ حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں جو خواجہ کمال الدین صاحب سے متعلق ہے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تھی لیکن پھر خلافت ثانیہ کے انتخاب کے وقت فتنہ میں مبتلا ہو گئے اور غیر مبائعین کے لیڈروں میں سے ہو گئے۔بہر حال ان کو لیڈری چاہئے تھی وہ ان کو وہاں مل گئی۔ان کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے کہ انہوں نے اپنے علم کو کس طرح بڑھایا تھا اور ان کے اچھے لیکچروں اور تقریروں کا راز کیا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب کی کامیابی کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ