خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 376
خطبات مسرور جلد 14 376 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2016 ہے۔وعدے بیشک اللہ تعالیٰ کے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو پورا کرنے کے لئے ان لوگوں پر جنہوں نے نبی کے ساتھ عہد بیعت کیا ہوتا ہے، یہ ذمہ داری بھی ڈالی ہے کہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں اور پھر جب یہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ان کے کاموں میں بے انتہا برکت بھی ڈالتا ہے اور نئے نئے ذرائع بھی پیدا فرماتا ہے۔یہ ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے بہت سے ذرائع تبلیغ کے پیدا فرمائے۔بہر حال حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیغام کا وہ حصہ پیش کرتا ہوں جو تبلیغ کے بارے میں تھا اس میں قادیان میں احمدیوں کی تھوڑی تعداد اور محدود وسائل رہ جانے کے باوجود اس اہم فریضے کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے اور درویشوں کو حوصلہ بھی دلایا اور ان کو حوصلہ دلانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی زمانے کا حوالہ دیا۔آپ ان کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ "بیشک آپ کی تعداد قادیان میں تین سو تیرہ ہے لیکن آپ اس بات کو نہیں بھولے ہوں گے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان میں خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے کام کو شروع فرمایا تھا تو اس وقت قادیان میں احمدیوں کی تعداد صرف دو تین تھی۔تین سو آدمی یقینا تین سے زیادہ ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کے وقت قادیان کی آبادی گیارہ سو تھی۔گیارہ سو اور تین کی نسبت 1/366 کی ہوتی ہے۔" یعنی ایک کے مقابلہ پہ تین سو چھیاسٹھ افراد۔"اگر اس وقت "جب یہ پیغام آپ بھیج رہے ہیں " قادیان کی آبادی بارہ ہزار سمجھی جائے تو موجودہ احمدیہ آبادی کی نسبت باقی قادیان کے لوگوں سے 1/36 ہوتی ہے " یعنی کہ چھتیس کے مقابلے پہ ایک احمدی اور پہلے ایک احمدی تین سو چھیاسٹھ کے مقابلہ پہ تھا۔آپ قادیان والوں کو مخاطب کرتے ہیں کہ "گویا جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کام شروع کیا اس " وقت " سے آپ کی طاقت دس گنازیادہ ہے۔پھر جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کام شروع کیا اس وقت قادیان سے باہر کوئی احمد یہ جماعت نہیں تھی۔لیکن اب ہندوستان میں بھی بیسیوں جگہ پر احمد یہ جماعتیں قائم ہیں۔ان جماعتوں کو بیدار کرنا، منظم کرنا، ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑا کرنا اور اس ارادے کے ساتھ ان کی طاقتوں کو جمع کرنا کہ وہ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کو ہندوستان کے چاروں گوشوں میں پھیلا دیں۔یہ آپ لوگوں کا ہی کام ہے۔" ہے" (سوانح فضل عمر جلد 4 صفحہ 388-389) یہی نسبت شاید آجکل کی قادیان کی آبادی کی ہو۔اگر احمدی ہزاروں میں ہیں تو وہاں دوسروں کی بھی تعداد بڑھی ہو گی۔اور اب تو وسائل بھی پہلے سے بہت بہتر ہیں اور ہمارے ذرائع بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان میں اب جماعت کا تعارف بھی مختلف ذرائع سے ہو رہا ہے۔لیکن جو کام کرنے والے ہیں، جو واقفین زندگی ہیں اور مربیان ہیں ان کو انفرادی طور پر بھی اپنی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ماریں بھی پڑتی ہیں، مخالفتیں بھی ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے حکمت سے اپنی تبلیغ کے کام کو آگے بڑھانا ہے۔انشاء اللہ۔