خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 16
خطبات مسرور جلد 14 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 چھلکا کوئی کام کی چیز نہیں ہے۔مغز ہی لیا جاتا ہے۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مغز رہتا ہی نہیں اور مرغی کے ہوائی انڈوں کی طرح جن میں نہ زردی ہوتی ہے نہ سفیدی، جو کسی کام نہیں آسکتے اور رڈی کی طرح پھینک دیئے جاتے ہیں۔ہاں ایک دو منٹ تک کسی بچے کے کھیل کا ذریعہ ہو تو ہو۔اسی طرح پر وہ انسان جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اگر وہ ان دو نو باتوں کا مغز اپنے اندر نہیں رکھتا تو اسے ڈرنا چاہئے کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ اس ہوائی انڈے کی طرح ذراسی چوٹ سے چکنا چور ہو کر پھینک دیا جائے گا۔" (ملفوظات جلد 2 صفحہ 167) فرمایا " اسی طرح جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کو ٹٹولنا چاہئے کہ کیا میں چھلکا ہی ہوں یا مغز ؟ جب تک مغز پیدا نہ ہو ایمان، محبت، اطاعت، بیعت، اعتقاد، مریدی، اسلام کا مدعی سچا مدعی نہیں ہے۔یاد رکھو کہ یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مغز کے سوا چھلکے کی کچھ بھی قیمت نہیں۔خوب یادرکھو کہ معلوم نہیں موت کس وقت آجاوے لیکن یہ یقینی امر ہے کہ موت ضرور ہے۔پس نرے دعویٰ پر ہر گز کفایت نہ کرو اور خوش نہ ہو جاؤ۔وہ ہر گز ہر گز فائدہ رساں چیز نہیں۔جب تک انسان اپنے آپ پر بہت موتیں وارد نہ کرے اور بہت سی تبد یلیوں اور انقلابات میں سے ہو کر نہ نکلے وہ انسانیت کے اصل مقصد کو نہیں پاسکتا۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 167) اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ علیہ السلام کی خواہش کے مطابق ڈھالنے والے ہوں اور ہمارے قدم ہر آن نیکیوں کی طرف بڑھنے والے قدم ہوں۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو ضائع کرنے والے نہ ہوں بلکہ ہمیشہ ان دعاؤں کا وارث بنیں جو آپ علیہ السلام نے اپنی جماعت کے لئے کی ہیں۔اس دعا کے ساتھ میں آپ سب کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس سال کو ہمارے لئے ذاتی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی بیشمار برکات کا باعث بنائے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 22 / جنوری 2016ء تا28/ جنوری 2016ء جلد 23 شمارہ 04 صفحہ 05تا09)