خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 15
خطبات مسرور جلد 14 15 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 بعد انکار کی نجاست میں گر کر ابدی عذاب خرید لیتے ہیں۔" قبولیت دعا کی شرائط ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 103 تا 105) پھر قبولیت دعا کی شرائط کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ " یہ بات بھی بحضور دل سن لینی چاہئے کہ قبول دعا کے لئے بھی چند شرائط ہوتی ہیں۔ان میں سے بعض تو دعا کرنے والے کے متعلق ہوتی ہیں اور بعض دعا کرانے والے کے متعلق۔دعا کرانے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کو مد نظر رکھے اور اس کے غناء ذاتی سے ہر وقت ڈرتا رہے اور صلح کاری اور خدا پرستی اپنا شعار بنالے۔تقویٰ اور راستبازی سے خدا تعالیٰ کو خوش کرے تو ایسی صورت میں دعا کے لئے باب استجابت کھولا جاتا ہے اور اگر وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے اور اس سے بگاڑ اور جنگ قائم کرتا ہے تو اس کی شرارتیں اور غلط کاریاں دعا کی راہ میں ایک سر اور چٹان بن جاتی ہیں۔" ایک روک بن جاتی ہیں " اور استجابت کا دروازہ اس کے لئے بند ہو جاتا ہے۔پس ہمارے دوستوں کے لئے لازم ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کو ضائع ہونے سے بچاویں اور ان کی راہ میں کوئی روک نہ ڈال دیں جو ان کی ناشائستہ حرکات سے پیدا ہو سکتی ہیں"۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 108) فرمایا چاہئے کہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں کیونکہ تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں۔اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة: 28) گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں تخلف نہیں ہوتا۔" وعدہ خلافی کوئی نہیں ہوتی۔" جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد : 32)۔پس جس حال میں تقویٰ کی شرط قبولیت دعا کے لئے ایک غیر منفک شرط ہے تو ایک انسان غافل اور بے راہ ہو کر اگر قبولیت دعا چاہے تو کیا وہ احمق اور نادان نہیں ہے۔لہذا ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک ان میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے تا کہ قبولیت دعا کا سرور اور حق حاصل کرے اور زیادتی ایمانی کا حصہ لے۔" (ملفوظات جلد 1 صفحہ 108-109) فرمایا: "یہ مت خیال کرو کہ صرف بیعت کر لینے سے ہی خدا راضی ہو جاتا ہے۔یہ تو صرف پوست ہے۔مغز تو اس کے اندر ہے۔اکثر قانون قدرت یہی ہے کہ ایک چھلکا ہوتا ہے اور مغز اس کے اندر ہو تا ہے۔