خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 373
خطبات مسرور جلد 14 373 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جولائی 2016 ایک سورۃ قرآن شریف میں موجود ہے جس کا نام سورۃ الجمعۃ ہے اور اس میں حکم ہے کہ جب جمعہ کی بانگ دی جائے یعنی اذان دی جائے تو تم دنیا کا ہر کام بند کر دو اور مسجدوں میں جمع ہو جاؤ اور نماز جمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو اور جو شخص ایسا نہ کرے گا وہ سخت گناہگار ہے اور قریب ہے کہ اسلام سے خارج ہو۔اور جس قدر جمعہ کی نماز اور خطبہ سننے کی قرآن شریف میں تاکید ہے اس قدر عید کی نماز کی بھی تاکید نہیں۔اسی غرض سے قدیم سے اور جب سے کہ اسلام ظاہر ہوا ہے جمعہ کی تعطیل مسلمانوں میں چلی آئی ہے اور اس ملک میں بھی برابر آٹھ سو برس تک یعنی جب تک کہ اس ملک میں اسلام کی سلطنت رہی جمعہ میں تعطیل ہوتی تھی۔" پھر آگے آپ نے میموریل میں فرمایا کہ " اس ملک میں تین قومیں ہیں۔ہندو، عیسائی اور مسلمان۔ہندؤوں اور عیسائیوں کو ان کے مذہبی رسوم کا دن گورنمنٹ نے دیا ہوا ہے یعنی اتوار جس میں وہ اپنے مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں جس کی تعطیل عام طور پر ہوتی ہے۔لیکن یہ تیسر ا فرقہ یعنی مسلمان اپنے تہوار کے دن سے یعنی جمعہ سے محروم ہیں۔" پھر آپ نے آگے چل کے فرمایا کہ " ان احسانوں کی فہرست میں جو اس گورنمنٹ نے مسلمانوں پر کئے ہیں اگر یہ احسان بھی کیا گیا کہ عام طور پر جمعہ کی تعطیل دی جائے تو یہ ایسا احسان ہو گا جو آب زر سے لکھنے کے لائق ہو گا۔" یہ درد تھا آپ کا مسلمانوں کے لئے اور اسلامی شعار کی پابندیاں کروانے کے لئے اور عبادت کی طرف توجہ دلانے کے لئے۔پھر آگے لکھتے ہیں اگر گورنمنٹ اس مبارک دن کی یاد گار کے لئے مسلمانوں کے لئے جمعہ کی تعطیل کھول دے یا اگر نہ ہو سکے تو نصف دن کی ہی تعطیل دے دے تو میں سمجھ نہیں سکتا کہ عام دلوں کو خوش کرنے کے لئے اس سے زیادہ کوئی کارروائی ہے۔" الحکم 24 جنوری 1903ء صفحہ 5-6 جلد 7 نمبر 3) آج مسلمان یا جو نام نہاد علماء ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر الزام لگاتے ہیں کہ انگریزوں کا خود کاشتہ ہے لیکن انگریز حکومت کو مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی طرف توجہ دلائی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے۔کسی اور مسلمان لیڈر کو توفیق نہ ملی اور یہ آپ کا ہی کام تھا کیونکہ یہ زمانہ جس میں اسلام کی اہمیت دنیا پر واضح کرنا اور اس کی حقیقی تعلیم پر عمل کروانا تھا یہ آپ کے ذریعہ سے ہونا تھا۔یہ آپ کے سپر د کام تھا۔اللہ تعالیٰ نے یہ کام آپ کے سپر دہی فرمایا ہوا ہے۔پس ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو ماننے کا دعوی کرنے والے ہیں ہمارے ہر عمل اور قول سے اسلام کی تعلیم کی حقیقت ظاہر ہونی چاہئے۔ہمیں یہ عہد کرنا چاہئے کہ یہ رمضان جن برکات کو لے کر آیا تھا اور جو برکات چھوڑ کر جارہا ہے اسے ہم نے اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے۔انشاء اللہ۔ہم نے اسلام کی عملی تصویر صرف ایک مہینہ کے لئے نہیں بننا بلکہ زمانے کے امام سے کئے ہوئے عہد کو مستقل پورا کرنا ہے۔