خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 372
خطبات مسرور جلد 14 372 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جولائی 2016 ان پر ضروری نہیں کہ یہ جمعہ پڑھیں۔ان کی استثناء ہے۔ان کے لئے ضروری نہیں کہ جمعہ پہ آئیں۔یہاں اس بات کی وضاحت ہوگئی جو بعض عور تیں پوچھتی ہیں، مجھے خط بھی لکھتی ہیں، بلکہ شکایت کرتی ہیں کہ ہمیں بعض دفعہ انتظامیہ یہ کہتی ہے کہ جمعہ پر بچوں کا شور ہوتا ہے اس لئے بچوں والی عور تیں نہ آیا کریں۔ان عورتوں اور بچوں کو تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مستثنیٰ قرار دے دیا۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ جہاں بچوں کو علیحدہ بٹھانے کا انتظام نہیں ہے وہاں بچوں والی عور تیں نہ آئیں۔ویسے بھی عورتوں پر فرض نہیں ہے لیکن مردوں پر بہر حال واجب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی ایک دفعہ عورتوں کے جمعہ پڑھنے کے بارے میں مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ " جو امر سنت اور حدیث سے ثابت ہے اس سے زیادہ ہم اس کی تفصیل کیا کر سکتے ہیں۔آنحضرت صلعم نے عورتوں کو جب مستی کر دیا ہے تو پھر یہ حکم صرف مردوں کے لئے ہی رہا۔" یعنی جمعہ کا۔(البدر 11 ستمبر 1903ء صفحہ 366 جلد 2 نمبر 34) پس مردوں پر تو بہر حال واجب ہے کہ اگر وہ مریض نہیں اور کوئی جائز مجبوری نہیں تو بہر حال جمعہ پر آنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جمعہ کی اہمیت کے بارے میں بتایا اور اسی اہمیت کے پیش نظر آپ نے اپنے زمانے میں 1895-96ء میں گورنمنٹ میں ایک تحریک کرنی چاہی کہ ہندوستان میں جمعہ ادا کرنے کے لئے سرکاری دفتروں میں دو گھنٹے کی رخصت ہوا کرے اور مسلمانوں سے دستخط لینے شروع کر دیئے۔لیکن اس وقت مولوی محمد حسین صاحب نے ایک اشتہار دیا کہ یہ کام تو اچھا ہے لیکن مرزا صاحب کے ہاتھ سے یہ کام نہیں ہونا چاہئے ، ہم خود اس کو سر انجام دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہمیں تو کوئی نام و نمود کا شوق نہیں ہے۔آپ خود کر لیں۔اور پھر آپ نے کارروائی بند کر دی۔لیکن پھر نہ مولوی محمد حسین صاحب کو ،نہ کسی دوسرے مسلمان عالم کو یہ توفیق ہوئی کہ اس پر کارروائی ہو اور وہ کارروائی آگے نہیں چلی۔(ماخوذ از ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب، رخصت برائے نماز جمعہ صفحہ 42-43) لیکن بہر حال ایک موقع پر وائسرائے ہند لارڈ کرزن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک میموریل بھیجا جس میں ان کی خوبیوں کا ذکر کر کے اور مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی کا شکریہ ادا کر کے جس میں اس بات کا شکریہ تھا کہ لاہور کی شاہی مسجد کو انہوں نے مسلمانوں کو واپس دلوایا، وہ مسجد کے طور پر استعمال ہو رہی ہے اور اسی طرح ایک اور مسجد جس پر ریلوے والوں کا قبضہ تھا اس کو واگزار کروا کر مسلمانوں کو دیا اور آپ نے بڑا احسان کیا ہے۔اس میموریل میں مزید لکھا لیکن ایک تمنا ان کی " یعنی مسلمانوں کی "ہنوز باقی ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ جن ہاتھوں سے یہ مرادیں پوری ہوئی ہیں یعنی وہ مسجد میں واپس ملی ہیں وہ تمنا بھی انہیں ہاتھوں سے پوری ہو گی اور وہ آرزو یہ ہے کہ روز جمعہ ایک اسلامی عظیم الشان تہوار ہے اور قرآن شریف نے خاص کر اس دن کو تعطیل کا دن ٹھہر آیا ہے اور اس بارے میں خاص