خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 371
خطبات مسرور جلد 14 371 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جولائی 2016 میں آنے والے کو مرغی کے انڈے جتنا ثواب ملتا ہے اور پہلے آنے والے کو اونٹ جتنا ثواب ملتا ہے۔(صحیح بخارى كتاب الجمعة باب فضل الجمعة حديث 881) پس یہ مثالیں اس بات کے بتانے کے لئے ہیں کہ تم یہ نہ سمجھو کہ جب مسجد میں آکر بیٹھ گئے اور کچھ انتظار کرنا پڑا تو یہ وقت کا ضیاع ہے۔نہیں بلکہ یہ ایسے شخص کو ثواب کا مستحق بنارہا ہے جو جلدی آنے والا ہے اور بعد میں آنے والوں سے پہلے آنے والوں کو ممتاز کر رہا ہے۔پہلے آنے والے مسجد میں بیٹھ کر ذکر الہی کر رہے ہوتے ہیں۔یہ یقینا اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی بات ہے۔اس کی اہمیت کو ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا کہ لوگ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور جمعوں میں آنے کے لحاظ سے بیٹھے ہوں گے۔یعنی پہلا دوسرا تیسرا پھر چو تھا۔اور راوی نے کہا یہ بھی فرمایا کہ چوتھا بھی اللہ تعالیٰ کے دربار میں بیٹھنے کے لحاظ سے کوئی دُور نہیں ہے۔(سنن ابن ماجه کتاب اقامة الصلوة والسنة فيها باب ما جاء فى التهجير الى الجمعه حديث 1094) پھر ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز جمعہ پڑھنے آیا کر و اور امام کے قریب ہو کر بیٹھا کرو اور ایک شخص جمعہ میں پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 752 مسند سمرة بن جندب حديث 20373 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) پس یہ سب احادیث بتاتی ہیں کہ نماز جمعہ کی اہمیت ہے قطع نظر اس کے کہ وہ جمعہ رمضان میں آرہا ہے، رمضان کا آخری جمعہ ہے یا عام حالات میں آنے والا جمعہ ہے۔جنت سے پیچھے رہنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان اپنی سستی اور جمعہ کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے باوجود اور خوبیوں کے اپنے آپ کو جنت سے محروم کر لیتا ہے یا اللہ تعالیٰ سے اپنے آپ کو بہت دُور کر لیتا ہے۔جمعہ کی اہمیت نہ ہونے کی وجہ سے جمعوں میں ناغے کرنے لگ جاتا ہے۔اس کے متعلق ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں انذار فرمایا ہے۔فرمایا کہ جس نے متواتر تین جمعہ جان بوجھ کر چھوڑ دیئے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 339 مسند ابي الجعد الضمری حدیث 15580 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) پس جو لوگ جمعوں میں شمولیت کو سرسری لیتے ہیں ان کے لئے بڑا انذار ہے۔دل پر مہر کر دینے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان کو پھر نہ نیکیوں کی توفیق ملتی ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والے بنتے ہیں۔پس ہر حدیث سے بڑا واضح ہے کہ ہر جمعہ ہی اہم ہے اور ہمیں اپنی پوری کوشش کر کے جمعہ میں شامل ہونا چاہئے۔لیکن بعض مجبور ہیں جو نہیں آسکتے۔بعضوں کو خود اللہ تعالیٰ نے چھوٹ دی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔وہ لوگ جو جمعوں سے متقی ہیں ان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غلام اور عورت اور بچہ اور مریض یہ سب مجبوری کے زمرہ میں آتے ہیں۔(سنن ابو داؤد کتاب الصلوة باب الجمعة للمملوك والمرأة حديث1067)