خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 370

خطبات مسرور جلد 14 370 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جولائی 2016 جو وہ لاتے تھے کسی ایک شہر تک محدود ہوتے تھے ، اب تجار تیں مقامی نہیں رہیں بلکہ بین الا قوامی ہونے کی وجہ سے تمہیں زیادہ مصروف رکھتی ہیں۔اسی طرح تمہارے کھیل ہیں اور دنیاوی مصروفیات ہیں جو بین الا قوامی ہونے کی وجہ سے وقت کی حدود کا لحاظ نہیں رکھتیں۔ان میں تم نے یا ایک مومن نے بہر حال جمعہ کی اہمیت کا خیال رکھنا ہے کیونکہ ایک مومن کی سب سے بڑی ترجیح اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے اور یہی ایک مومن کی ترجیح ہونی چاہیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تو آپ کی قوت قدسی کی وجہ سے مکمل طور پر پاک ہو چکے تھے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے زیادہ مقدم تھی اس لئے ان کے بارے میں تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کاروباروں اور کھیل کود کی وجہ سے جمعہ چھوڑتے ہوں گے اور پھر مقامی طور پر تجارتوں اور کھیل کود کے اوقات کو تو جمعہ کے اوقات کے لحاظ سے ایڈجسٹ بھی کیا جا سکتا تھا۔یہ یقیناً ہمارے زمانے کی حالت کا ہی نقشہ ہے۔مسیح موعود کے زمانے کا ہی نقشہ ہے جب دین کی ترجیح پیچھے چلی جائے گی اور دنیاوی ترجیحات سامنے آجائیں گی۔چوبیس گھنٹے ہی تجارتوں اور کھیل کو د میں مصروف ہوں گے۔دنیا کے فاصلے کم ہو جائیں گے۔میڈیا کے ذریعہ گھر بیٹھے ہی دنیا کی جگہ جگہ کی جو لہو و لعب اور دل بہلاوے کی باتیں ہیں ہر وقت گھر بیٹھے مل رہی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے وقت میں تم اگر اپنی ترجیحات درست رکھو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حاصل کرنے والے بنو گے۔یقینا اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے وہ تجارتوں اور دل بہلاوے کے سامانوں سے بہت زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ تمام قسم کا رزق بھی عطا کرنے والا ہے۔وہی ہے جس کی طرف سے ہر قسم کا رزق آتا ہے اور وہی رازق ہے۔پس اگر تم اس کی بات مانتے ہوئے اپنے جمعوں کی حفاظت کرو گے تو دنیاوی رزق میں بھی برکت حاصل کرنے والے بنو گے۔پس ہمیں جمعہ کی اس اہمیت کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے ہیں ہمارے لئے تو کسی لحاظ سے بھی مناسب نہیں کہ اپنے جمعوں کی ادائیگی کو صرف رمضان تک یا جمعۃ الوداع تک محدود کر دیں۔جمعہ کی اہمیت کو مزید واضح کرنے کے لئے چند مزید احادیث پیش کرتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی اہمیت اور اس کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں، وہ مسجد میں پہلے آنے والے کو پہلا لکھتے ہیں اور اسی طرح وہ آنے والوں کی فہرست ترتیب وار تیار کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب امام خطبہ دے کر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنار جسٹر بند کر دیتے ہیں۔(صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب ذكر الملائكة حديث 3211) پس وہ جو اپنے دنیاوی کاموں کی وجہ سے آخری وقت میں آتے ہیں اس فہرست میں آخر میں شمار ہوتے ہیں اور آخر میں شمار ہونے والوں کے لئے ثواب بھی بہت تھوڑا ہے۔بعض جگہ اس ثواب کا ذکر بھی ملتا ہے کہ آخر