خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 369
خطبات مسرور جلد 14 369 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01جولائی 2016 دیکھیں گے تو اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور تجھے اکیلا کھڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔تو کہہ دے کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ دل بہلاوے اور تجارت سے بہت بہتر ہے اور اللہ رزق عطا کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔پس یہاں خاص طور پر جمعوں میں شمولیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جمعہ کی اذان کی آواز سنو یا آجکل ہر ایک کو علم ہے ، گھڑیاں ہیں، وقت مقرر ہوتا ہے، ان کو دیکھو کہ جمعہ کا وقت ہو گیا ہے تو اپنے سب کام اور کاروبار بند کرو اور جمعہ کے لئے آؤ۔اور خطبہ جمعہ بھی نماز کا ہی حصہ ہے۔اس لئے سستی نہ دکھاؤ کہ نماز شروع ہونے تک پہنچ جائیں گے اور نماز میں شامل ہو جائیں گے بلکہ خطبہ کے لئے پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہاں ضمنا یہ بھی ذکر کر دوں بلکہ بڑا اہم ذکر ہے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کی سہولت مہیا فرمائی ہوتی ہے۔یورپ میں اور افریقہ کے بعض ممالک میں تو جمعہ کا وقت بھی ایک ہی ہے اس لئے جب ایک وقت ہے تو پھر خلیفہ وقت کا خطبہ سننا چاہئے۔یہ احسان ہے اللہ تعالیٰ کا ہم پر کہ اس نے اس سہولت کے ذریعہ جماعت کی اکائی کا ایک اور سامان مہیا فرما دیا۔جہاں وقت کا فرق ہے وہاں بھی احمدیوں کو سننا چاہئے۔اگر لائیو (Live) نہیں تو ریکارڈنگ سن لیں اور اس طرح اس خطبہ کے تفصیلی اقتباسات لے کر خطبات دینے والوں کو یا جہاں مبلغین، مرتبیان خطبات دیتے ہیں ان کو اپنی جماعتوں میں اسی دن یا اگلے دن یا اگلے دن نہیں تو اگلے ہفتے یہ خطبہ سنانا چاہئے۔مغرب کی طرف ہم مزید جائیں گے تو وہاں صبح کا وقت ہے۔وہ صبح سویرے سن لیتے ہیں اُسی دن بھی سناسکتے ہیں۔مشرق کی طرف دن گزر چکا ہے، وہاں شام ہو رہی ہے یا وقت آگے چلا گیا ہے تو اگلے ہفتے سنا سکتے ہیں۔یہ ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جماعت میں اکائی پیدا کرنے کا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کو جو جمعہ سے خاص نسبت ہے اللہ تعالیٰ نے اس ایجاد کے ذریعہ خلیفہ وقت کے خطبہ کو بھی اس کا ایک حصہ بنادیا ہے۔پھر دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ اگر تمہارے کام ہیں تو تم جمعہ سے پہلے یا بعد میں کر سکتے ہو اور جمعہ کے وقت خاص طور پر یہ کام نہ کر کے جب جمعہ پر آؤ گے تو اپنے دنیاوی کاموں میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کے وارث بنو گے۔پس جمعہ میں اس لئے شامل نہ ہونا کہ ہمارے دنیاوی کام متاثر ہوں گے یہ نہ صرف غلط ہے بلکہ خود اپنے لئے نقصان دہ ہے۔کسی بھی کام کو پھل لگانا اور اس میں برکت ڈالنا تو خدا تعالیٰ کا کام ہے اس لئے یا درکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ کی بات نہ مانو گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کام میں برکت نہیں پڑے گی اور اگر بات مانو گے تو کام میں برکت پڑے گی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری تجار تیں، دنیاوی کاروبار اور کھیل کو د تمہیں جمعہ پڑھنے سے روکنے والے نہ ہوں۔خاص طور پر یہ چیزیں اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس زمانے کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے خاص نسبت ہے اس لئے خاص طور پر یہ ہدایت ہے کہ تمہاری تجار تیں جو صرف مقامی نہیں رہیں، پہلے تو مقامی طور پر تجارتیں ہوا کرتی تھیں۔تجارتی قافلے جاتے تھے لیکن