خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 14
خطبات مسرور جلد 14 14 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 کر سکتا بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے۔پس ڈرو۔میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 48-49) چاہے اس کا ظاہر میں کسی کو پتا ہو یا نہ پتا ہو لیکن جو شخص بھی کمزور ہے وہ ان باتوں سے فیضیاب نہیں ہو گا یا پھر ان دعاؤں سے حصہ نہیں پاسکے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے افراد کے لئے کی ہیں۔پس اس بارے میں ہر ایک کو اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقَيْمَةِ (ال عمران : 56)۔یہ تسلی بخش وعدہ ناصرت میں پیدا ہونے والے ابن مریم سے ہوا تھا۔" یعنی ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک میں بالا دست کرنے والا ہوں، فوقیت دوں گا۔فرمایا کہ یہ وعدہ تو بیشک ابن مریم سے ہوا تھا۔"مگر میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ یسوع مسیح کے نام سے آنے والے ابن مریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں الفاظ میں مخاطب کر کے بشارت دی ہے۔" فرمایا کہ " اب آپ سوچ لیں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھ کر اس وعدہ عظیم اور بشارت عظیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیا وہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو آکارہ کے درجہ میں پڑے ہوئے فسق و فجور کی راہوں پر کار بند ہیں؟ نہیں، ہر گز نہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی سچی قدر کرتے ہیں اور میری باتوں کو قصہ کہانی نہیں جانتے تو یاد رکھو اور دل سے سن لو۔میں پھر ایک بار ان لوگوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور وہ تعلق کوئی عام تعلق نہیں بلکہ بہت زبر دست تعلق ہے اور ایسا تعلق ہے کہ جس کا اثر نہ صرف میری ذات تک بلکہ اس ہستی تک پہنچتا ہے جس نے مجھے بھی اس برگزیدہ انسان کامل کی ذات تک پہنچایا ہے جو دنیا میں صداقت اور راستی کی روح لے کر آیا۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ان باتوں کا اثر میری ہی ذات تک پہنچتا تو مجھے کچھ بھی اندیشہ اور فکر نہ تھا اور نہ ان کی پر واہ تھی مگر اس پر بس نہیں ہوتی اس کا اثر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خود خدائے تعالیٰ کی برگزیدہ ذات تک پہنچ جاتا ہے۔پس ایسی صورت اور حالت میں تم خوب دھیان دے کر سن رکھو کہ اگر اس بشارت سے حصہ لینا چاہتے ہو اور اس کے مصداق ہونے کی آرزو ر کھتے ہو اور اتنی بڑی کامیابی کہ قیامت تک مکفرین پر غالب رہو گے کی سچی پیاس تمہارے اندر ہے تو پھر اتنا ہی میں کہتا ہوں کہ یہ کامیابی اس وقت تک حاصل نہ ہو گی جب تک توامہ کے درجہ سے گزر کر مطمئنہ کے مینار تک نہ پہنچ جاؤ۔اس سے زیادہ اور میں کچھ نہیں کہتا کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کے ساتھ پیوند رکھتے ہو جو مامور من اللہ ہے۔پس اس کی باتوں کو دل کے کانوں سے سنو اور اس پر عمل کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہو جاؤ تا کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو اقرار کے