خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 365

خطبات مسرور جلد 14 365 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جولائی 2016 سے پڑھی کہ آج میں چار رکعتیں پڑھ رہا ہوں اور آج کے بعد میری توبہ میں آئندہ باقاعدگی سے نمازیں پڑھتار ہوں گا تو پھر تو ٹھیک ہے۔اگر اصلاح کی نیت نہیں ہے تو پھر ایسا شخص گناہگار ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحه 366) پس جماعت احمدیہ میں تو قضائے عمری کا کوئی تصور نہیں۔ہم نے تو زمانے کے امام کو مانا ہے اور اس شرط کے ساتھ مانا ہے کہ بدعات سے پر ہیز کریں گے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔اور جب دین کو مقدم کرنے کا عہد ہے تو پھر نمازیں چھوڑنا کیسا اور جمعہ چھوڑنا کیسا۔ہمارے لئے تو اگر کوئی جمعتہ الوداع کا تصور ہے تو بالکل اور تصور ہے اور ایک حقیقی احمدی کے لئے یہی تصور ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ ہم بڑے بھاری دل کے ساتھ اس جمعہ کو وداع کر رہے ہیں اور اس سوچ اور دعا کے ساتھ کر رہے ہیں کہ دراصل جمعہ کو نہیں بلکہ اس مہینے کو ، ان بابرکت دنوں کو ہم وداع کر رہے ہیں اور جمعہ کیونکہ ہمارے بڑی تعداد میں جمع ہونے کا ذریعہ بنا ہے اور یہ اس رمضان کا آخری جمعہ ہے اس لئے ہم سب جمع ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پھر ہمیں توفیق دے کہ جو دن اور جمعے ہم نے رمضان میں گزارے ہیں اور جو برکات ہم نے رمضان میں حاصل کی ہیں ان پر قائم رہتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ اگلے رمضان کا استقبال کریں۔پس یہ ہماری سوچ ہونی چاہئے۔کسی پیارے کو وداع اس لئے نہیں کیا جاتا کہ جاؤ اب تم ہمارے سے رخصت ہو رہے ہو اس لئے اب ہم تمہیں بھولنے لگے ہیں اور اب تمہاری یاد سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔اپنے پیارے جو مستقل چھوڑ کر جاتے ہیں، انسان تو ان کی یادوں کو بھی نہیں بھلاتا۔ان کی یادوں کو جاری رکھنے کے لئے ان کے نیک کام جاری رکھنے کی کوشش کرتا ہے یا ان کے نام پر نیکیوں کو جاری کرتا ہے۔مومن ہیں تو ان کے لئے دعائیں بھی کرتے ہیں اور جو عارضی رخصت ہوتے ہیں، اپنی مصروفیات اور کاموں کی وجہ سے ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتے ہیں انہیں تو انسان بالکل بھی نہیں بھلاتا اور آجکل کی سہولیات استعمال کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں فون پر یا ٹیکسٹ میسجز ہیں یا مختلف طریقے ہیں میسجز کے بلکہ اب تو سکائپ (Skype) بھی ایک شروع ہو چکا ہے اس کے ذریعہ کو شش ہوتی ہے کہ اپنے پیاروں کی آواز بھی سنیں اور ان کی حرکات و سکنات بھی دیکھ سکیں۔پس کسی پیارے کو وداع کبھی ہم اس لئے نہیں کرتے کہ اب سال دو سال کے لئے تمہاری یاد ہمارے دلوں سے نکل جائے گی۔ہم تمہیں بھول جائیں گے کہ تم کون ہو اور کون تھے۔اب جب تم دوبارہ ملو گے تو پھر دیکھیں گے کہ تمہارے حق ادا کرنے ہیں یا نہیں ؟ تمہارے سے وہی پیار کا سلوک رکھنا ہے یا نہیں ؟ کیا کبھی دنیاوی تعلقات میں ایسا ہوتے کسی نے دیکھا ہے ؟ اگر کوئی کبھی ایسا کر تا ہو گا تو اس کو سب لوگ پاگل کہیں گے۔مگر جب اس ذات کا سوال آتا ہے جو سب سے پیاری ہے ، جو رب العالمین ہے ، جو ہماری پرورش کرنے والی ہے۔جو ہمیں سب کچھ دینے والی ہے۔جو رحمان