خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 364

خطبات مسرور جلد 14 364 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جولائی 2016 جائے اس کی ساری دعائیں قبول ہو جاتی ہیں اور اس جمعہ کی ادائیگی سے سارے سال کی چھوٹی ہوئی نمازیں اور جمعوں اور ہر قسم کی عبادتوں کی ادائیگی کا حق بھی ادا ہو جاتا ہے۔لیکن ایک حقیقی مومن کا یہ تصور نہیں۔یہ ایک انتہائی غلط تصور ہے۔ایک احمدی اور حقیقی مومن کے نزدیک تو ایسی باتیں اور ایسی سوچیں دین کے ساتھ استہزاء کرنے والی چیزیں ہیں۔ہم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ہمیں اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اور اس کے فرستادے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو قبول کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی جنہوں نے ہمیں ان غلط تصورات اور غلط خیالات سے پاک کر کے حقیقی رہنمائی فرمائی اور اسلام کی حقیقی سے آگاہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستے دکھائے ہیں۔ایک دفعہ ایک مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال ہوا کہ مسلمانوں میں یہ رواج ہے کہ جمعتہ الوداع کے دن لوگ چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور اس کا نام قضائے عمری رکھتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ گزشتہ نمازیں جو ادا نہیں کیں ان کی تلافی ہو جائے اس کا کوئی ثبوت ہے یا نہیں؟ اس کی کیا حقیقت ہے ؟ کیا یہ جائز ہے ؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا کہ: ایک فضول امر ہے۔آپ نے فرمایا کہ جو شخص عمد أسال بھر اس لئے نماز ترک کرتا ہے کہ قضائے عمری والے دن ادا کر لوں گا تو وہ گناہگار ہے اور جو شخص نادم ہو کر تو بہ کرتا ہے اور اس نیت سے پڑھتا ہے کہ آئندہ نماز ترک نہ کروں گا تو اس کے لئے حرج نہیں۔فرمایا ہم تو اس معاملے میں حضرت علی کا ہی جواب دیتے ہیں۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جواب کا واقعہ یوں ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ ایک شخص بے وقت نماز پڑھ رہا تھا۔نماز کا وقت نہیں تھا، نماز پڑھ رہا تھا۔کسی شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں۔اسے منع کیوں نہیں کرتے کہ غلط وقت پہ نماز پڑھ رہا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچے ملزم نہ بن جاؤں۔اَرءَ يُتَ الَّذِي يَنْهى عَبْدًا إِذَا صَلَّى (العلق : 10-11) یعنی کیا تو نے غور کیا اس پر جو روکتا ہے ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس حوالے کے بعد فرماتے ہیں کہ اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو۔کیوں منع کرتے ہو ؟ آخر دعا ہی کرتا ہے یہ جو چار رکعتیں پڑھ رہا ہے۔ہاں اس میں پست ہمتی ضرور ہے۔نیتوں کا حال تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے جس کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی احتیاط کی اور اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ آرَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صلی اس کو نہیں روکا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی چیز کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فتویٰ دیا ہے لیکن یہ ساتھ واضح فرما دیا کہ یہ پست ہمتی ہے اور اگر نیت قضائے عمری کی ہے اور اس اصلاح کی نہیں ہے۔یعنی اگر تو اس نیت