خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 366

خطبات مسرور جلد 14 366 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 جولائی 2016 ہے، رحیم ہے۔جو یہ کہتا ہے کہ میرے پر ایمان کو کامل کرو۔جو یہ کہتا ہے کہ مجھ سے پیار اور قربت کا تعلق نہ توڑو۔جو یہ کہتا ہے کہ میری باتیں مانو کہ سب پیاروں سے بڑھ کر میں تم سے پیار کرنے والا ہوں اور پیار کئے جانے کا حق رکھنے والا ہوں۔جو یہ کہتا ہے کہ میری یادوں کو تازہ رکھو، اسے ہم کہیں کہ اے اللہ ! تیری بڑی مہربانی کہ تو نے اپنی یادوں اور اپنی عبادتوں اور روزوں کے ایا ما مَّعْدُودَاتٍ سے ہمیں گزار دیا۔اب ہماری چھٹی ہو گئی۔ختم ہو گیا معاملہ۔کون سارب اور کون سا اللہ۔اب ہم اس جمعہ سے تجھے الوداع کہتے ہیں اور اس وداع کے ساتھ اب ہم مکمل طور پر ایک سال کے لئے تجھے بھولنے والے ہیں۔اب ایک سال بعد اگلا رمضان آئے گا تو پھر عبادتوں اور نیک کاموں کے ذریعہ تجھے یاد کرنے کی کوشش کریں گے اور بشرط زندگی اور صحت تیر اجو بھی ہو سکا ٹوٹا پھوٹا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔اگر پورے رمضان کے مہینہ میں کوئی عبادت اور نیکی نہ بجالا سکے تور مضان کے آخر پر جمعۃ الوداع تو آنا ہی ہے اس میں جمع ہو کر تیر احق ادا کر دیں گے، تیری ربوبیت اور تیرے احسانوں کا بدلہ اتار دیں گے۔اگر یہ شخص اس طرح سوچ رکھتا ہو یا اظہار کرے تو اس کو بھی لوگ پاگل ضرور کہیں گے۔لیکن یہ سوچیں لوگ رکھتے ہیں۔زبان سے اظہار نہیں کرتے لیکن عملی اظہار ہو جاتا ہے۔آئندہ جمعوں کی حاضری دیکھنے سے پتالگ جاتا ہے۔اگر یہ چیز ہے تو اسے جہالت اور دین کا ادنی سا بھی علم نہ رکھنا اور اللہ تعالیٰ پر ادنی ایمان بھی نہ ہونا کہیں گے۔پس ایک مومن کی یہ سوچ نہیں ہو سکتی۔مومن تو ان باتوں سے بہت بالا ہے۔مومن تو اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی نیکیوں کو جاری رکھتا ہے۔وہ تو اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے جذبات سے بھرا ہوتا ہے۔وہ تو رمضان میں سے گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے۔وہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلتے ہوئے رمضان کو الوداع کہتا ہے تو بڑے بھاری دل کے ساتھ کہ اب ہم رمضان سے رخصت تو ہو رہے ہیں لیکن ان دنوں کی یاد ہمیشہ دلوں میں تازہ رکھیں گے۔رمضان میں جو پیاری پیاری اور نیک باتیں سیکھی ہیں ان کی جگالی کرتے رہیں گے۔رمضان میں جو عبادتوں کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے اسے ہمیشہ زندہ رکھیں گے اور کبھی ہمارے قدم تیرے قرب کو پانے کے لئے رکیں گے نہیں۔ہم نے تو تیرے پیار کے عجیب نظارے دیکھے۔جب ہم چل کر تیرے پاس جانے کی کوشش کرتے ہیں تو تو اپنے وعدے کے مطابق دوڑ کر ہمارے پاس آتا ہے۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے دنیاوی رشتوں کی یادوں کو تو تازہ رکھیں اور جو سب سے زیادہ پیار کرنے والا ہے اس کی یاد کو بھلا دیں اور اس کے احسانات کو بھلا دیں۔اللہ تعالیٰ کے تو احسان کرنے کے انداز بھی عجیب ہیں۔یہ اس کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اس وداع کے بعد یادوں کو تازہ رکھنے کے لئے ، ان کو بھلانے سے بچانے کے لئے پیاری پیاری یادوں کی جگالی کرنے کے لئے سات روز بعد وہ تقریب منعقد کرنے کے سامان کر دیئے جس میں سے ہم جمعتہ الوداع والے دن گزرے تھے یا گزرتے ہیں۔ایک سال رمضان کے انتظار کے لئے تو بیشک رکھا لیکن اپنے پیار کے اظہار اور اپنے انعامات کے