خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 363

خطبات مسرور جلد 14 363 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01جولائی 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ یکم جولائی 2016ء بمطابق یکم و فا1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوة مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَالِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ۔فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التَّجَارَةِ۔وَاللهُ خَيْرُ الرُّزِقِينَ (الجمعة: 10 تا12) اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کی فرضیت کا جب حکم دیا تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اياما معْدُودَاتٍ (البقرة:185) گنتی کے چند دن ہیں۔جب رمضان شروع ہوا تو ہم میں سے بہت سے سوچتے ہوں گے کہ گرمیوں کے لمبے دن ہیں اور ان میں یہ تیس روزے پتا نہیں کس طرح گزریں گے ، بڑی مشکل پڑے گی۔لیکن جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گنتی کے چند دن ہیں، یہ دن بھی گزر گئے۔آج پچیسواں روزہ ہے اور مجھے بہت سے لوگ لکھتے بھی ہیں کہ یہ دن گزر بھی گئے اور پتا بھی نہیں چلا۔حقیقت میں یہ بات صحیح ہے۔جب رمضان آتا ہے، شروع ہوتا ہے ، ابتدا میں لگتا ہے بڑے لمبے دن ہیں لیکن جب دن گزرنے شروع ہوتے ہیں تو کوئی احساس نہیں ہو تا۔آج رمضان کا آخری جمعہ ہے۔باقی پانچ یا بعض جگہوں پر شاید چار روزے رہ گئے ہوں۔ان چار پانچ دنوں میں بھی ہم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ اگر کوئی کمیاں رمضان سے یار مضان میں پورا استفادہ کرنے میں رہ گئی ہیں تو انہیں ہم ان دنوں میں دُور کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری پردہ پوشی فرمائے ، ہم پر رحم فرمائے ، اور ہمیں رمضان کی برکتوں سے محروم نہ رکھے۔آج جیسا کہ میں نے کہا کہ رمضان کا آخری جمعہ ہے جسے عام اصطلاح میں جمعۃ الوداع کہتے ہیں۔عام مسلمانوں میں تو اس جمعہ کو رمضان کا آخری جمعہ سمجھتے ہوئے اور یہ تصور رکھتے ہوئے کہ جو اس جمعہ میں شامل ہو