خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 362
خطبات مسرور جلد 14 362 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 میڈیکل کا ڈپلومہ کیا۔ایک پرائیویٹ لیبارٹری میں ریڈیو گرافک ٹیکنیشن کے طور پر کام شروع کیا۔ساتھ ہی شام کے وقت اپنے کلینک پر میڈیکل پریکٹس بھی شروع کی۔بعد ازاں لیبارٹری کی ملازمت چھوڑ کر مکمل طور پر میڈیکل کلینک پر بیٹھنا شروع کر دیا۔شہید مرحوم بے شمار خوبیوں کے حامل تھے۔تبلیغ کا ان کو بڑا شوق تھا۔کلینک پر بھی غیر از جماعت کو تبلیغ کرتے رہتے تھے۔شہید مرحوم نماز باجماعت کے پابند تھے۔نوافل بھی ادا کرنے والے تھے۔عبادات میں بڑے بڑھے ہوئے تھے۔انتہائی ہمدرد انسان تھے۔مستحقین کا بغیر معاوضہ کے بھی علاج کرنے والے تھے۔بعض غیر از جماعت مریض کہتے تھے کہ آپ قادیانی ہیں آپ سے دوا لینے کو دل تو نہیں کر تالیکن کیا کریں بچوں کو شفا بھی آپ کی دوائی سے آتی ہے۔آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی بھی تھے۔جماعتی خدمات میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔شہید مرحوم کو اپنے حلقہ میں بطور محصل اور بطور زعیم انصار اللہ خدمت کی توفیق ملی نیز گزشتہ 18 سال سے سیکرٹری وقف نو حلقہ کے عہدے پر بھی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں اور بچوں نے بھی لکھا ہے کہ بچوں کو بڑی چھوٹی عمر میں نماز کا پابند بنایا۔خود بھی پانچوں نمازیں باقاعدگی سے الگ الگ مقررہ وقت پر ادا کرتے۔قرآن کریم کی روزانہ با ترجمہ تلاوت آپ کا معمول تھا۔خلیفہ وقت کا خطبہ خود بھی با قاعدگی سے سنتے اور ہمیشہ بچوں کو بھی سنواتے بلکہ صبح شام ایم ٹی اے بھی ضرور لگاتے۔اور اگر گھروں میں تربیت کرنی ہے تو ایم ٹی اے ہی بہترین ذریعہ ہے۔محلے والوں کے کام آنے والے تھے۔شہید مرحوم کی اہلیہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک ماہ قبل خواب میں دیکھا کہ دو گلاس شربت کے بھرے ہوئے ہیں۔میں کہتی ہوں کس چیز کا شربت ہے۔یہ تو کوئی خاص شربت لگتا ہے۔تو مجھے خواب میں بتایا جاتا ہے کہ دنیا کی جو سب سے اچھی چیز ہے اس کا شربت ہے۔شہید مرحوم کی شہادت کے بعد اس خواب کی سمجھ آئی کہ یہ جام شہادت ہے۔اس سے قبل داؤ د احمد صاحب شہید ہوئے تھے اور وہ بھی انہی کی گلی میں ساتھ ہی تھے۔وہ چند دن پہلے شہید ہوئے۔تو دو گلاس سے شاید یہ دو شہاد تیں مراد تھیں۔ان کے پسماندگان میں بھائی بہنوں کے علاوہ ان کی اہلیہ محترمہ بشریٰ خلیق صاحبہ ہیں۔دو بیٹے ہیں عزیزم انیق احمد جو جامعہ احمد یہ ربوہ میں طالب علم ہیں۔اسی طرح ایک بیٹے رحیق احمد ، یہ پی ٹی ایس کے تیسرے سال کے طالب علم ہیں۔ایک بیٹی عزیزہ شمائلہ احمد ہے یہ سولہ سال کی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو اور لواحقین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کے باپ کی نیکیاں ہمیشہ ان کے بچوں میں بھی جاری رہیں۔( الفضل انٹر نیشنل مورخہ 15 / جولائی 2016 ء تا21/ جولائی 2016ء جلد 23 شمارہ 29 صفحہ 05تا09)