خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 361
خطبات مسرور جلد 14 361 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 کی سچی بات کا اس کی غیر موجودگی میں اس طرح بیان کرنا کہ اگر وہ موجود ہے تو اسے بری لگے تو یہ غیبت ہے۔کسی کی سچی بات کا اس کی غیر موجودگی میں بیان چاہے وہ سچی بات ہی ہو اور ایسی بات جو اس کو بری لگے اگر اس کو غیر موجودگی میں بیان کر رہے ہو تو یہ غیبت ہے۔اور اگر اس میں وہ بات ہے ہی نہیں جو بیان کی جارہی ہے تو یہ بہتان ہے۔(مسلم) كتاب البر والصلة والآداب باب تحريم الغيبة حديث 6593) پس متقی کا یہ کام نہیں ہے کہ ایسی باتیں کرے جس سے مسائل پید اہوتے ہوں، معاشرے میں فساد پیدا ہوتے ہوں۔نہ غیبت کرنی ہے ، نہ کسی پر بہتان لگانا ہے۔پس رمضان میں جب ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں، اس کا قرب ہمیں ملے ، اپنی دعاؤں کو ہم قبول ہو تا ہوا دیکھیں تو ان برائیوں سے بچنے کی اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی ہمیں بہت زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کے تمام احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس کا قرب حاصل کرنے والے ہوں اور رمضان کے بعد بھی ہم میں یہ نیکیاں قائم رہیں۔اللہ تعالیٰ کے حقیقی عابد ہم بنیں اور ہم اسی کی کامل فرمانبر داری اختیار کرنے والے ہوں۔نماز کے بعد ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو ایک شہید کا جنازہ ہے۔مکرم چوہدری خلیق احمد صاحب ابن چوہدری بشیر احمد صاحب حلقہ گلزار ہجری ضلع کراچی۔آپ کو 49 سال کی عمر میں مخالفین احمدیت نے 20 /جون 2016ء کو رات تقریباً ساڑھے نو بجے ان کے کلینک میں کھس کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔تفصیلات کے مطابق چوہدری خلیق احمد صاحب نے میڈیکل ڈپلومہ کیا ہوا تھا اور اپنے گھر کے قریب ہی ہو میو پیتھک اور ایلو پیتھک کلینک بنارکھا تھا۔وقوعہ کے روز حسب معمول روزہ افطار کرنے کے بعد اپنے کلینک واقع گلزار ہجری پر واپس آئے اور وہاں موجود مریضوں کو دیکھ رہے تھے کہ رات تقریباً ساڑھے نو بجے ہیلمٹ پہنے ہوئے دو نامعلوم افراد نے کلینک میں آکر آپ پر فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔فائرنگ کے نتیجہ میں دو گولیاں آپ کے سر میں لگیں اور دو گولیاں سینے میں لگیں۔کلینک کے قریب واقع میڈیکل سٹور والے نے فوری طور پر موٹر سائیکل پر آکر آپ کے گھر جا کر اطلاع دی۔آپ کا بیٹا گاڑی لے کر آیا اور گاڑی میں ڈال کر فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جایا گیا لیکن آپ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جام شہادت نوش فرما گئے تھے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔کراچی کے اسی حلقہ گلزار ہجری میں گزشتہ ماہ مئی کی 25 تاریخ کو بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے مکرم داؤ د احمد صاحب ولد حاجی غلام محی الدین صاحب کو شہید کیا تھا۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے دادا مکرم اللہ بخش صاحب آف امر تسر کے ذریعہ ہوا۔ان کا خاندان امر تسر سے گو کھووال، پھر رحیم یار خان میں آباد ہوا۔پھر شہداد پور ضلع سانگھڑ میں منتقل ہو گئے۔مرحوم شہداد پور ضلع سانگھڑ کے قریب گاؤں احمد پور میں 1967ء میں پیدا ہوئے تھے۔ایف اے تک تعلیم حاصل کی۔پھر 1988ء میں کراچی شفٹ ہو گئے۔یہاں