خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 360 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 360

خطبات مسرور جلد 14 غضب سے بہت بچے۔360 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 (ملفوظات جلد 6 صفحہ 104) بدظنی سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں بھی حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یکا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِ اثْمَّ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ اَحَدُ كُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِیم۔(الحجرات: 13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ظن سے بکثرت اجتناب کیا کرو یقیناً بعض ظن گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کیا کرو اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس آیت میں پہلی چیز جس سے بچنے کا ذکر ہے وہ بدظنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " بد ظنی ایک ایسا مرض ہے اور ایسی بُری بلا ہے جو انسان کو اندھا کر کے ہلاکت کے تاریک کنوئیں (ملفوظات جلد اول صفحہ 100) میں گرا دیتی ہے۔" پھر فرمایا خوب یاد رکھو کہ ساری برائیاں اور خرابیاں بدظنی سے پیدا ہوتی ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع فرمایا ہے۔فرمایا کہ " انسان بدظنی سے بہت ہی بچے۔اور اگر کسی کی نسبت کوئی سوء ظن پید اہو " کوئی براظن، بدظنی پیدا بھی ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے۔"کسی دوسرے کے بارے میں بد ظنی پید اہوئی ہے تو بجائے اس کو دل میں جگہ دینے کے ، اس پر سوچنے کے یا پھر دوسرے کو اس کی وجہ سے نقصان پہنچانے کے بجائے کثرت سے استغفار کرنی چاہئے کہ کسی کے بارے میں بد ظنی پیدا ہوئی ہے۔فرمایا کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے تاکہ اس معصیت اور اس کے برے نتیجہ سے بچ جاوے۔" اس گناہ سے بچے اور اس گناہ کی وجہ سے جو برے نتائج پیدا ہونے ہیں ان سے بچ سکے " جو اس بد ظنی کے پیچھے آنے والا ہے۔اس کو کوئی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہئے۔یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 371-372) پھر اس آیت میں دوسری بات جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں روکا ہے عجس کرتا ہے۔کھود کھود کر کسی کے عیب نکالنا یا کسی بھی بارے میں نجس کرنا۔جو چیز کوئی بتانا نہ چاہتا ہو اس کے بارے میں ضرور ایک کو شش کرنا کہ میرے علم میں آجائے۔یہ چیز میں غلط ہیں۔اس سے بھی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔پھر تیسرا حکم یہ ہے کہ غیبت نہ کرو۔غیبت کرنا ایسا ہی ہے جیسا کسی نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھالیا اور اس سے تم سخت کراہت کرو گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیبت کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کسی