خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد 14 359 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 قوتوں میں ایک نئی روشنی پید اہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔غصہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پید اہوتی ہے۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 180) پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ "یادر کھو جو شخص سختی کرتا ہے اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمہ کی باتیں ہر گز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹھ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔" جب گندہ دہنی نکلتی ہے۔گندے الفاظ نکل رہے ہوں۔گالیاں نکل رہی ہوں اور کوئی اس پر روک ٹوک نہیں ہوتی۔تو پھر جو اچھی باتیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ کو پسند باتیں ہیں ، جو نیکی کی باتیں ہیں ان سے پھر منہ اور زبان محروم ہو جاتی ہے۔ایسے لوگ پھر ہمیشہ گندہی بکتے ہیں۔فرمایا کہ " غضب اور حکمت دو نو جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغضوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔"غصہ میں آگئے تو موٹی عقل ہو گئی اور پھر سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔فرمایا کہ اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔" ( الحکم مورخہ 10 مارچ 1903ء صفحہ 8 جلد 7 نمبر 9 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 2 صفحہ 153) " پھر ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ "مرد کو چاہئے کہ اپنے قومی کو بر محل اور حلال موقعہ پر استعمال کرے۔مثلاً ایک قوت غضبی ہے جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔غصہ میں اور جنون میں، پاگل پن میں بہت تھوڑا فرق ہے۔"جو آدمی شدید الغضب ہو تا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغضوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔" لملفوظات جلد 5 صفحہ 208) اگر کوئی تمہارا مخالف بھی ہے تب بھی غصہ میں آکے، غضبناک ہو کر اس سے گفتگو نہ کرو بلکہ پھر بھی حکمت سے بات کرنی چاہئے۔پس اللہ تعالیٰ کے احکام جہاں ہمارے اخلاق کو بلند کر کے ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتے ہیں وہاں ہماری عقلوں کو بھی جلا بخشنے والے ہیں اور اس کے ساتھ بہت سی دشمنیوں اور نقصانوں سے بھی انسان بچ جاتا ہے۔اکثر غصہ میں آنے والوں اور لڑنے والوں کو نقصان اٹھاتے ہی دیکھا گیا ہے کبھی فائدہ تو نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : دو قوتیں انسان کو منجر بہ جنون کر دیتی ہیں۔" یعنی جنونی بنا دیتی ہیں۔کون سی دو قو تیں؟" ایک بدظنی اور ایک غضب جبکہ افراط تک پہنچ جاویں۔"جب انتہا تک پہنچ جاویں تو یہ چیزیں پھر انسان کو پاگل بنادیتی ہیں۔" پس لازم ہے کہ انسان بدظنی اور غضب سے بہت بچے۔" آپ نے فرمایا لازم ہے کہ انسان بد ظنی اور