خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 358 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 358

خطبات مسرور جلد 14 358 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 گے۔فرمایا کہ " جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔" میں جھوٹ بولوں گا تو میر ا معاملہ طے ہو جائے گا فرمایا " کیسی خرابی آکر پڑی ہے۔اگر کہا جاوے کہ کیوں بت پرست ہوتے ہو۔اس نجاست کو چھوڑ دو۔تو کہتے ہیں کہ کیونکر چھوڑ دیں اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔اس سے بڑھ کر اور کیا بد قسمتی ہو گی کہ جھوٹ پر اپنی زندگی کا مدار سمجھتے ہیں۔مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔یقینا یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں۔عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں۔مگر میں کیونکر اس کو باور کروں ؟ مجھ پر سات مقد مے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔اللہ تعالیٰ تو آپ سچائی کا حامی اور مدد گار ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ وہ راستباز کو سزا دے؟ یہ کس طرح ہو سکتا ہے " اگر ایسا ہو پھر دنیا میں کوئی شخص سچ بولنے کی جرات نہ کرے اگر سچوں کو سزاملنی شروع ہو جائے تو پھر تو دنیا میں کوئی سچ بولے ہی نہ فرمایا اور " خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاد اٹھ جاوے۔راستباز تو زندہ ہی مر جاویں۔اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں " سچ بولا اور پھر بھی اگر سزا مل گئی تو " وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی وہ سزا اُن کی بعض اور مخفی در مخفی بدکاریوں کی ہوتی ہے اور کسی اور جھوٹ کی سزا ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے پاس تو ان کی بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزا پالیتے ہیں۔" (احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 478 تا480) پس اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیشہ عاجزی سے جھکتے ہوئے ہمیں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں ہم اپنے کسی مخفی گناہ کی وجہ سے نہ آجائیں۔اللہ تعالیٰ کا ہمیں یہ حکم ہے اور متقیوں کی اللہ تعالیٰ نے ایک نشانی یہ بتائی ہے کہ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران:135) غصہ کو دبانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں۔عفو کا مطلب ہے کہ اپنے خلاف کئے گئے جرم کو مکمل طور پر بھلا کر کسی کو معاف کر دینا۔یہ عفو ہے۔پس متقی وہ ہے جو نہ صرف غصہ کو دبانے والا ہو بلکہ معاف کرنے والا بھی ہو اور پھر معاف اس طرح کرے کہ جس نے بھی میرے خلاف جرم کیا ہے اس کو میں بھول جاؤں۔اس بارے میں وضاحت فرماتے ہوئے کہ غصہ کو دبانے کے کیا فائدے ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : یا درکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی