خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 357
خطبات مسرور جلد 14 357 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 عہد توڑے جارہے ہوتے ہیں۔آجکل میں نے دیکھا ہے کہ دنیاوی لالچوں کی وجہ سے ہمارے اندر بھی معاہدوں کو توڑنے اور دھوکہ دینے اور زبان کے اقرار کو پورا نہ کرنے کے معاملات بڑھ رہے ہیں اور ان چیزوں سے نہ صرف یہ کہ جماعت کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ بعض دفعہ ایسے لوگوں کا ایمان بھی ضائع ہو جاتا ہے۔معاہدوں کو جب انسان توڑتا ہے تو جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور جھوٹ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بڑا سخت انذار فرما کر اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ (الحج:31) بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: " مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو" قتل نہ کرو۔کسی کا خون نہ بہاؤ کیونکہ بجز نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ نا انصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔حق کو قبول کر لو اگر چہ ایک بچہ سے۔"اگر بچہ بھی کوئی سچی بات کہتا ہے تو قبول کر لو پھر ضد نہ کرو اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو۔" اگر تمہارا مخالف ہے اور کوئی سچی بات کہتا ہے۔لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں اور دیکھ لو کہ دوسری طرف سچائی ہے تو پھر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔پھر منطق جھاڑنے کی ضرورت نہیں۔پھر سچائی کو قبول کرو۔فرمایا کہ "سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ یعنی بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھی کہ وہ بت سے کم نہیں۔جو چیز قبلہ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بت ہے۔" جو سچائی اختیار کرنے سے تمہیں ہٹاتی ہے وہ بت ہے۔" سچی گواہی دو اگرچہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔چاہئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔" (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 550) ہم غیروں کو تو یہ بات بتاتے ہیں اور قرآن کریم کی یہ تعلیم دکھاتے ہیں کہ یہ انصاف کی تعلیم ہے لیکن ہم میں سے بہت سارے ایسے ہیں کہ جب ہمارے اپنے معاملات آتے ہیں تو اس چیز کو بھول جاتے ہیں۔پھر ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " بت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے۔" جھوٹ کو بت پرستی کے ساتھ ملایا ہے "جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لیے جھوٹ کو بت بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی جیسے ایک بت پرست بت سے نجات چاہتا ہے۔" یعنی بت بنا کر اس کے پاس عبادت کرنے کے لئے جاتا ہے، سمجھتا ہے کہ میں اس کی عبادت کروں گا یا اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگوں گا تو مجھے نجات مل جائے گی یا میرے مقاصد حل ہو جائیں