خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 356

خطبات مسرور جلد 14 356 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 ہونے سے بچائے۔پس ایک مومن کی فرمانبرداری اسی وقت ہوتی ہے جب وہ ان نمازوں کو وقت پر ادا کرنے والا ہو اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے نماز ادا کرنے والا ہو۔یہ نہیں کہ جلدی جلدی آئے اور ٹکریں مار کے چلے گئے۔پھر ایک حکم قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے عہدوں کو پورا کرنے اور ان کی پابندی کا دیا ہے۔اس میں خدا تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد بھی ہیں اور بندوں کے عہد بھی۔اللہ تعالیٰ کے عہد ، اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں عہد ہیں۔مسلمان ہونے اور پھر ہم احمدیوں کو خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا جو عہد ہے، دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا جو عہد ہم نے کیا ہے، اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کا جو عہد ہم نے کیا ہے ان تمام باتوں کی پابندی کا عہد ہے جو اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔شرائط بیعت میں ساری چیزیں شامل ہیں۔اور بندوں کا حق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں۔اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللهِ إِذَا عَهَدتُّمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ۔(النحل : 92) اور تم اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کر وجب تم عہد کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد نہ تو ڑو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر کفیل بنا چکے ہو۔اللہ یقینا جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔پس بڑا واضح حکم ہے کہ تمہارے دو عہد ہیں۔ایک اللہ تعالیٰ سے کیا ہو اعہد جو یقینا اسلام کی تعلیم پر چلنے کا عہد ہے اور عہد بیعت ہے۔یہ عہد ہے کہ میں اسلام میں داخل ہو کر مسلمان کہلا کر اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کروں گا اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ تم آپس کے جو عہد اور معاہدات کرتے ہو ان کو بھی پورا کرو۔گو یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو تم نے ضامن بنالیا تو تمہارا اس عہد کو پورا کرنا ضروری ہے۔اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ جہاں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اللہ تعالیٰ کو ضامن نہ بنایا جائے وہاں عہد توڑ دو تو کوئی حرج نہیں۔اپنی قسموں کو توڑ دو تو کوئی حرج نہیں۔معاہدات پر عمل نہ کرو تو کوئی حرج نہیں۔نہیں۔بلکہ ہر عہد جو تم کرتے ہو، ہر معاہدہ جو تم کرتے ہو وہ پہلی بات تو یہ ہے کہ انصاف اور سچائی کی بنیاد پر ہونا چاہئے اور جب انصاف اور سچائی کو بنیاد بنا کر کرتے ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اسی طرح ہونا چاہئے کیونکہ ایک مومن کا انصاف اور سچائی پر قائم ہونا ضروری ہے۔گویا دوسرے لفظوں میں چاہے ہم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر یا اسے ضامن بنا کر کوئی معاہدہ کریں یا نہ کریں لیکن کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے کہ تم انصاف اور سچائی پر قائم رہو اس لئے جو معاہدہ بھی انصاف اور سچائی کی بنیاد پر ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت کے نیچے آجائے گا۔پس اس مضمون کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک مومن نے اپنے تمام عہدوں اور معاہدوں کو پورا کرنا ہے۔اگر اس بات کی اہمیت اور حقیقت کو ہم سمجھ لیں تو ہر قسم کے جھگڑوں اور دھوکہ دہیوں اور الزامات سے ہمارا معاشرہ پاک ہو سکتا ہے۔عائلی معاملات میں بھی جو مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ بھی کبھی پیدا نہ ہوں کیونکہ وہاں بھی