خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 355
خطبات مسرور جلد 14 355 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 دیکھا اور کشفی نگاہ اس پر ڈالی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا دل باوجود اس قدر لین دین" کے ، کاروبار کر رہا ہے، پیسہ آرہا ہے، سامان دے رہا ہے، بظاہر کاروبار میں مصروف ہے باوجود اس قدر لین دین اور " روپیہ کے خدا تعالیٰ سے ایک دم غافل نہ تھا۔"کار و بار بھی ساتھ ساتھ کر رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہوا۔آپ فرماتے ہیں کہ " ایسے ہی آدمیوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہ کوئی تجارت اور خرید و فروخت ان کو غافل نہیں کرتی اور انسان کا کمال بھی یہی ہے کہ دنیوی کاروبار میں بھی مصروفیت رکھے اور پھر خدا کو بھی نہ بھولے۔" فرماتے ہیں کہ "وہ ٹٹو کس کام کا جو بر وقت بوجھ لادنے کے بیٹھ جاتا ہے اور جب خالی ہو تو خوب چلتا ہے۔وہ قابل تعریف نہیں۔" ٹٹو بھی گھوڑے کی ایک قسم ہوتی ہے جو خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں بوجھ لادنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ " وہ فقیر جو دنیوی کاموں سے گھبرا کر گوشہ نشین بن جاتا ہے وہ ایک کمزوری دکھلاتا ہے۔" یہ پہلو بھی سامنے ہونا چاہئے۔عبادت مقصد ہے لیکن دنیاوی کام بھی ساتھ ساتھ ہوں۔وہ لوگ جو گوشہ نشین ہو جاتے ہیں فقیر بن جاتے ہیں فرمایا کہ وہ کمزوری دکھلاتے ہیں۔" اسلام میں رہبانیت نہیں۔ہم کبھی نہیں کہتے کہ عورتوں کو اور بال بچوں کو ترک کر دو اور دنیوی کاروبار کو چھوڑ دو۔نہیں بلکہ ملازم کو چاہئے کہ وہ اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرے اور تاجر اپنی تجارت کے کاروبار کو پورا کرے لیکن دین کو مقدم رکھے " یہ شرط ہے۔اس کی مثال خود دنیا میں موجود ہے۔آپ فرماتے ہیں " اس کی مثال خود دنیا میں موجود ہے کہ تاجر اور ملازم لوگ باوجود اس کے کہ وہ اپنی تجارت اور ملازمت کو بہت عمدگی سے پورا کرتے ہیں پھر بھی بیوی بچے رکھتے ہیں اور ان کے حقوق برابر ادا کرتے ہیں۔ایک طرف کاروبار بھی ہے ، ملازمتیں بھی ہیں لیکن گھر کی ذمہ داریاں ہیں، بچوں کی ذمہ داریاں ہیں، بیوی کے حقوق ہیں وہ بھی سب ادا کر رہے ہوتے ہیں۔دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہوتی ہیں۔فرمایا کہ " ایسا ہی ایک انسان ان تمام مشاغل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حقوق کو ادا کر سکتا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر بڑی عمدگی سے اپنی زندگی گزار سکتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 206-207) نمازوں کی حفاظت کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حفظوا عَلَى الصَّلَوتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قُنِتِينَ۔(البقرة: 239) کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرو بالخصوص مرکزی نماز کی اور اللہ کے حضور فرمانبر داری کرتے ہوئے کھڑے ہو جاؤ۔اس آیت میں خاص طور پر ان لوگوں کو نماز کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کے لئے کوئی بھی نماز کسی بھی طرح بوجھ ہے۔اگر فجر کی نماز میں بوجہ رات دیر تک جاگنے اور سستی کی وجہ سے شامل ہونا مشکل ہے، وقت پر پڑھنا مشکل ہے تو یہ ایسے شخص کے لئے صلوۃ وسطی ہے۔اگر کاروباری آدمی کے لئے ظہر عصر کی نماز پڑھنا مشکل ہے تو یہ اس کے لئے صلوۃ وسطی ہے۔حافظوا کا مطلب یہ ہے کہ ایسی حفاظت جو کسی چیز کو ضائع