خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 13

خطبات مسرور جلد 14 13 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 جنوری 2016 تفاسیر ، اس کثرت سے لٹریچر موجود ہے کہ اس کو اگر پڑھا جائے تو تمام اعتراضات اور وساوس بڑے آرام سے دور ہو جاتے ہیں۔پھر باہمی اخوت اور اتفاق اور محبت کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : " جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہمت اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجو د واحد ر کھوور نہ ہو انکل جائے گی۔نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اسی لیے ہے کہ باہم اتحاد ہو۔برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔اگر اختلاف ہو، اتحاد نہ ہو تو پھر بے نصیب رہو گے۔" پھر مقصد پورے نہیں ہوں گے اگر آپس میں اختلافات ہوئے۔اس لئے اختلافات کو ختم کرو۔اتحاد پیدا کرو۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لیے غائبانہ دعا کرو۔"محبت کا تقاضا کیا ہے کہ تم چاہے جانتے ہو یا نہیں جانتے ایک تو اس کے لئے دعا کرو اور دوسرے کسی کو بتائے بغیر اس کے لئے دعا کرو اگر ایک شخص غائبانہ دعا کرے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی ایسا ہو"۔دوسرے کو نہیں پتا کہ کون کس کے لئے دعا کر رہا ہے لیکن جب اس طرح کوئی کرتا ہے تو فرشتہ اس کے لئے دعا کرتا ہے فرمایا " کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔اگر انسان کی دعا منظور نہ ہو تو فرشتہ کی تو منظور ہوتی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔" فرمایا: "میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اول خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی۔كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ (آل عمران: 104) یا درکھو تألیف ایک اعجاز ہے۔یاد رکھو جب تک تم میں ہر ایک ایسانہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے " بلکہ فرمایا کہ " وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ: "میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیدا ہو گی۔باہمی عداوت کا سبق کیا ہے۔بخل ہے۔رعونت ہے۔خود پسندی ہے اور جذبات ہیں۔"بڑی تکلیف سے آپ فرما رہے ہیں کہ جو بخل بھی رکھتے ہیں۔رعونت ہے۔خود پسندی ہے اور اپنے جذبات پر قابو نہیں پاتے۔ان لوگوں کو فرمایا۔" ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوں گا جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔جو ایسے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں جب تک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھائیں۔میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہو کر میرے منشاء کے موافق نہ ہو وہ خشک ٹہنی ہے اس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سبز شاخوں کے ساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے مگر اس کو سر سبز نہیں