خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 354

خطبات مسرور جلد 14 354 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 نہیں ہوتی کہ خدا بھی کوئی ہے۔ہاں اس وقت پتا لگتا ہے جب قابض ارواح آکر جان نکال لیتا ہے۔" دنیا کے (الحکم مورخہ 24 ستمبر 1904ء صفحہ 1 جلد 8 نمبر 32 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 4 صفحہ 239) جھنجھٹوں سے، دنیا کے کاموں سے اس وقت نکلتے ہیں جب موت کا وقت آتا ہے بلکہ اکثریت دنیا داروں کی تو ایسی ہے کہ موت کے وقت بھی انہیں دنیاوی دولت اور اسے سنبھالنے کی فکر ہوتی ہے۔ایک مومن کی تو یہ حالت نہیں ہوتی کہ موت کے وقت صرف اس طرف توجہ ہو کہ دنیا کس طرح سنبھالنی ہے۔لیکن صحت میں بہت سے ایسے ہیں جو ایمان لانے کے باوجود اس مقصد کو بھول کر جو زندگی کا مقصد ہے دنیاوی مقاصد کی تلاش میں زیادہ فکر مند ہوتے ہیں۔پس ہم میں سے ہر ایک کو یہ فکر سب سے زیادہ مقدم رکھنی چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کرنے والے بنیں۔اس رمضان میں بھی اور رمضان کے بعد بھی ہماری توجہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رہے اور اس کے لئے جو مسجدوں کی آبادی کا حکم ہے اسے ہم اپنے سامنے رکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا کہ " انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے " خدا کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے " یعنی خدا تعالیٰ کے " نزدیک وہ قابل قدر شئے ہو جاوے گا۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 289) جب اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کا درد ہو گا تو پھر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ انسان قابل قدر چیز بن جاتا ہے۔پس جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر شئے ہو جائے وہی ہے جو حقیقی رشد پانے والا ہے، حقیقی ہدایت پانے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے نماز اور عبادت کے مضمون کو اور بھی بہت جگہ بیان فرمایا ہے۔سورۃ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكوة يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ۔(النور: 38) کہ ایسے عظیم مرد جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے یا نماز کے قیام سے یاز کوۃ کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل خوف سے الٹ پلٹ ہو رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی۔اس آیت میں ان لوگوں کی مثال ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر شئے ہو جائے گا اور یہ اعزاز سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو ملا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے بنے اور اپنے صحابہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا ہے کہ وہ تمہارے لئے راستہ دکھانے والے ہیں ان کے پیچھے چلو۔(مشکوۃ المصابیح جلد دوم صفح4 41 كتاب المناقب باب مناقب الصحابة الفصل الثالث حديث 6018 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ " ایک شخص کا ذکر تذکرۃ الاولیاء میں ہے کہ ایک شخص ہزار ہاروپیہ کے لین دین کرنے میں مصروف تھا۔ایک ولی اللہ نے اس کو