خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 353

خطبات مسرور جلد 14 353 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 ہیں۔اس لئے ان کو ادا کرنا تو بہر حال ضروری ہے۔ان کو اپنے فائدے اور استعمال میں لاؤور نہ بعض چیزیں ایسی ہیں اگر ان کو استعمال نہ کیا جائے، نفس کا پورا حق نہ ادا کیا جائے تو بعض حسیں ختم ہو جاتی ہیں اور جو انسانی پیدائش کا مقصد نہیں ہے بلکہ عبادت کے مقصد کے ساتھ ہی ان چیزوں کا استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی خصوصیات اور طاقتوں کو استعمال کرنا ضروری ہے اور نہ استعمال کرنا اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے۔ایک صحابیہ تھیں۔ان کا براحال تھا۔نہ تیار ہوتی تھیں نہ کنگھی کرتی تھیں۔کسی نے ان کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اس طرح رہتی ہیں۔آپ نے بلا بھیجا۔انہوں نے کہا میں کس کیلئے تیار ہوں ؟ میر اخاوند تو دن کو بھی عبادت کرتا ہے۔رات کو بھی عبادت کرتا ہے۔تو آپ نے خاوند کو بلا کر کہا کہ تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے۔تمہاری بیوی کا بھی تم پہ حق ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 531 حدیث 26839 مسند حضرت عائشة مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) پس حقوق ہر طرح کے ادا ہونے چاہئیں لیکن جو پیدائش کا مقصد ہے اس کو بہر حال سامنے رکھنا چاہئے۔نفس کے حقوق بھی ادا ہوں گے تو صحت رہے گی اور جب صحت رہے گی تو عبادت بھی صحیح طریقے سے ہو سکے گی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " بے محل استعمال سے حلال بھی حرام ہو جاتا ہے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) سے ظاہر ہے کہ انسان صرف عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے جس قدر چیز اسے درکار ہے اگر اس سے زیادہ لیتا ہے تو گو وہ شئے حلال ہی ہو مگر فضول ہونے کی وجہ سے اس کے لئے حرام ہو جاتی ہے۔" ہر چیز کا جائز استعمال ٹھیک ہے لیکن اگر ضرورت سے زیادہ استعمال ہے تو وہ حلال بھی حرام بن جاتا ہے۔فرمایا جو انسان رات دن نفسانی لذات میں مصروف ہے وہ عبادت کا کیا حق ادا کر سکتا ہے۔مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک تلخ زندگی بسر کرے لیکن عیش و عشرت میں بسر کرنے سے تو وہ اس زندگی کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں کر سکتا۔" پھر فرماتے ہیں کہ : " اصل غرض انسان کی خلقت کی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کی (ملفوظات جلد 7 صفحہ 68) فرمانبر داری کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔میں نے جن اور انس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں مگر افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ جو دنیا میں آتے ہیں بالغ ہونے کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے فرض کو سمجھیں اور اپنی زندگی کی غرض اور غایت کو مد نظر رکھیں وہ خدا کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور دنیا کا مال اور اس کی عزتوں کے ایسے دلدادہ ہوتے ہیں کہ خدا کا حصہ بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے اور بہت لوگوں کے دل میں تو ہوتا ہی نہیں وہ دنیا ہی میں منہمک اور فنا ہو جاتے ہیں۔انہیں خبر بھی