خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 352
خطبات مسرور جلد 14 352 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 میں تراویح کا بھی انتظام ہے۔گھر جا کر سوتے سوتے بارہ، ساڑھے بارہ بج جاتے ہیں۔پھر دو اڑھائی بجے سحری کھانے کے لئے جاگتے بھی ہوں گے۔کچھ نفل بھی پڑھتے ہیں۔مسجد میں نماز پر بھی آتے ہیں۔تو یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اگر ارادہ ہو ، صرف علمی اہمیت کا ہی پتا نہ ہو بلکہ عملی کوشش بھی ہو تو نماز جو عبادت کا بہترین مقام ہے اس میں سستی نہ دکھائیں بلکہ کوشش کر کے آیا کریں۔مساجد میں نماز باجماعت ادا کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے حکم ہے۔پس اس رمضان میں واقفین زندگی جن کا عہد ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کرنے والوں میں، سب سے آگے رہنے والوں میں سے ہونے کی اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ کوشش کریں گے اور عہدیدار جن پر افراد کی نظر ہے اور ان کو انہوں نے چنا بھی اس لئے ہوا ہے، منتخب کیا ہے کہ ہم میں سے بہتر ہیں وہ ایک نمونہ ہونے چاہئیں۔ان کو اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہئے کہ صرف رمضان میں ہی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق عبادت پر زور نہیں دینا اور دن ہی نہ گنتے رہیں کہ باقی تیرہ دن رہ گئے یا بارہ دن رہ گئے تو پھر ہم اپنی پرانی روش پر یا روٹین پر آ جائیں گے بلکہ یہ کوشش ہو کہ اس رمضان کی تربیت اور مجاہدہ نے ہم میں جو عبادتوں کی طرف توجہ میں بہتری پیدا کی ہے اسے ہم نے اب مستقل زندگی کا حصہ بنانا ہے۔اپنے نمونے قائم کرنے ہیں۔جیسا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس پیش کیا جس میں آپ نے بڑے درد سے یہ توجہ دلائی اور یہ فرمایا کہ میں بار بار توجہ دلاتا ہوں۔اس ضمن میں آپ کے چند اور اقتباسات پیش کرتا ہوں جس سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : "جب خدا تعالی کا ارادہ انسانی خلقت سے صرف عبادت ہے تو مومن کی شان نہیں کہ کسی دوسری چیز کو عین مقصود بنالے۔حقوق نفس تو جائز ہیں مگر نفس کی بے اعتدالیاں جائز نہیں۔حقوق نفس بھی اس لیے جائز ہیں کہ تا وہ درماندہ ہو کر رہ ہی نہ جائے۔تم بھی ان چیزوں کو اسی واسطے کام میں لاؤ۔ان سے کام اس واسطے لو کہ یہ تمہیں عبادت کے لائق بنائے رکھیں، نہ اس لیے کہ وہی تمہارا مقصود اصلی ہوں۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 248-249) نفس کے حقوق ادا کرنے کا حدیث میں بھی ذکر آیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے۔(بخاری کتاب الصوم باب من اقسم على اخيه ليفطر۔۔۔الخ حديث 1968) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بیشک یہ حق ہے لیکن اس میں اعتدال ہو نا چاہئے۔میانہ روی ہونی چاہئے۔جائز حق جو ہیں نفس کے وہ ادا کرو کیونکہ یہ حقوق اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں رکھے