خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 351
خطبات مسرور جلد 14 351 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2016 سکیں۔ہم میں سے بعض بہتر عمل کرنے والے ہیں، بہتر عبادتیں کرنے والے ہیں، بہتر اخلاق والے ہیں۔اس لئے جب جمع ہوتے ہیں، اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو اجتماعی طور پر ان دنوں میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو اس سے اپنی حالت کی طرف بھی توجہ ہوتی ہے۔قرآن کریم میں بے شمار احکامات ہیں جن کے کرنے یا نہ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے جن کی ہمیں وقتا فوقتا جگالی کرتے رہنا چاہئے ، دہراتے رہنا چاہئے۔اس وقت میں نے بعض احکامات لئے ہیں۔سب سے بنیادی حکم جو ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور جو انسان کی پیدائش کا مقصد بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا ترجمہ یوں فرمایا ہے کہ "میں نے جن و انس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری پرستش کریں۔" (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 185 حاشیہ) اس مضمون کو میں کئی مرتبہ بیان کر چکا ہوں۔بار بار اس طرف توجہ دلاتارہتا ہوں لیکن ہم میں سے بہت سے چند دن اسے یاد رکھتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں حتی کہ میرے علم میں بھی ہے ، اور میں نے دیکھا ہے کہ بعض واقفین زندگی بلکہ وہ جنہوں نے دینی علم بھی حاصل کیا ہو ا ہے اور علمی لحاظ سے اس کی اہمیت کو سمجھتے بھی ہیں وہ بھی اس طرح توجہ نہیں دیتے جس طرح توجہ دینی چاہئے۔پھر جماعتی عہدیدار ہیں۔میٹنگز میں تو اپنی علمی لیاقت ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کسی کا معاملہ پیش ہو جائے تو اسے قرآن اور حدیث کے حوالے سے سمجھاتے ہیں لیکن بعض ایسے ہیں کہ خود اس بنیادی حکم پر وہ توجہ نہیں جو ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: کہ تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔میں اس لئے بار بار اس ایک امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے۔اور یہی بات ہے جس سے وہ دُور پڑا ہوا ہے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 183-184) آپ علیہ السلام نے آگے اس بات کی مزید وضاحت فرمائی کہ دنیا کو مقصود بالذات نہ بنانے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ تم دنیاوی کام نہ کرو۔بیشک وہ بھی کرو لیکن جو عبادت کی ذمہ داری ہے بلکہ جو مقصد پیدائش ہے وہ تمہاری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔آجکل رمضان میں اس پر عموماً عمل ہو ہی رہا ہے۔رات عشاء کی نماز بھی مغربی ممالک میں بہت دیر سے ہوتی ہے۔نماز سے فارغ ہوتے ہوتے گیارہ، سوا گیارہ بج ہی جاتے ہیں۔پھر بعض تراویح بھی پڑھتے ہیں۔مساجد