خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 348

خطبات مسرور جلد 14 348 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 نماز کے بعد میں دو جنازے غائب پڑھاؤں گا۔ایک مکرم راجہ غالب احمد صاحب کا ہے۔یہ جماعت کے دیرینہ خادم اور اردو کے بڑے معروف شاعر اور ادیب تھے۔ماہر تعلیم تھے۔انہوں نے حکومت کی نوکری کی اور یہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئر مین بھی رہے ہیں۔یہ 4 جون 2016ء کو لاہور میں 88 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔انا لهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔گجرات شہر میں یہ 1928ء میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد حضرت راجہ علی محمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔انہوں نے 1905ء میں بیعت کی اور سلسلہ احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔ان کے والد کو قادیان میں بطور ناظر مال اور ناظر اعلیٰ خدمت کی توفیق ملی۔راجہ غالب صاحب کے نانا ملک برکت علی صاحب تھے اور حضرت ملک عبد الرحمن خادم صاحب جو خالد احمدیت تھے آپ کے ماموں تھے۔لاہور سے انہوں نے میٹرک کیا۔پھر قادیان سے ایف۔اے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے سائیکالوجی میں ماسٹر کی ڈگری لی اور پہلی پوزیشن بھی حاصل کی۔بحیثیت شاعر دانشور ماہر تعلیم اور ادب کے ناقد ملک کے مقتدر علمی اور ادبی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے پہچانے جاتے تھے۔روزنامہ الفضل کے ساتھ ملکی اور بین الا قوامی جرائد میں بھی ان کی نظمیں اور تحریر میں اردو اور انگریزی میں شائع ہوتی رہیں۔انہوں نے اپنی ملازمت کا آغاز پاکستان ایئر فورس سے کیا۔پھر محکمہ تعلیم پنجاب کو 1962ء میں جوائن کیا۔پھر بڑے اہم مختلف کلیدی عہدوں پر فائز رہے جنرل سیکرٹری اور کنٹرولر بورڈ آف انٹر میڈیٹ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب، چیئر مین بورڈ آف انٹر میڈیٹ سرگودھا، چیئر مین پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور مشیر تعلیم حکومت پنجاب ان کی نمایاں ملکی خدمات ہیں۔جماعتی خدمات کا سلسلہ بھی بہت طویل ہے۔جماعت احمد یہ ضلع لاہور میں آپ جنرل سیکرٹری، سیکرٹری تعلیم اور کئی عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔1974ء کے بعد آپ کو بطور ترجمان جماعت احمدیہ کئی بار پر یس کا نفر نسیں اور پریس ریلیزیں اور بیانات جاری کرنے کا موقع ملا۔خطوط لکھنے والے تھے۔اخبارات کو ذاتی بیان دینے کا موقع ملا۔1992 تا 97ء ڈائریکٹر فضل عمر فاؤنڈیشن۔74ء تا85ء ڈائریکٹر وقف جدید اور اس کے علاوہ نائب صدر ناصر فاؤنڈیشن بھی رہے۔بڑے سادہ مزاج اور بڑے دھیمے مزاج کے تھے۔خلافت سے ان کا بڑا تعلق تھا اور جماعتی عہدیداروں کی بھی بڑی عزت اور احترام کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔درجات بلند کرے۔ان کی اولاد نہیں تھی۔ان کی ایک کے پالک بیٹی تھی۔اللہ تعالیٰ اس کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم ملک محمد احمد صاحب کا ہے جو واقف زندگی تھے۔16 مئی 2016ء کو وفات پاگئے۔یہ دونوں جنازے پچھلی دفعہ پڑھانے تھے بس کسی وجہ سے رہ گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے تھے۔