خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 347
خطبات مسرور جلد 14 347 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2016 دیتی ہے۔الوہیت اور عبودیت میں اسی قسم کا ایک تعلق ہے جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔جب انسان اللہ تعالیٰ کے دروازے پر گر پڑتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے حضور اپنے حالات کو پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے تو الوہیت کا کرم جوش میں آتا ہے اور ایسے شخص پر رحم کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا دودھ بھی ایک گریہ کو چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا دودھ اگر پینا ہے ، اس کے فضل ورحم سے فیض اٹھانا ہے تو اس کے لئے بھی عاجزی، انکساری رونا اور چلانا ہو گا۔فرمایا کہ " اس لئے اس کے حضور رونے والی آنکھ پیش کرنی چاہئے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 352) پس رمضان میں جبکہ اکثر کی توجہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد کی طرف بھی ہے اور نماز باجماعت ادا کرنے کی طرف بھی توجہ ہے۔اس کے ساتھ نوافل کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور پھر وہ دعائیں جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے ہیں وہ ہمیں ترجیحا کرنی چاہئیں۔پہلی دعائیں یہی ہیں باقی دعائیں ، دنیاوی دعائیں، ہماری دنیاوی ضروریات کی دعائیں بعد میں آنی چاہئیں تو پھر اللہ تعالیٰ خود ہی حاجات پوری کر دیتا ہے۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دعا بھی پیش کرتا ہوں جسے ان دنوں میں ہمیں خاص طور پر کرنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ کے حضور آپ نے یہ دعا کی تھی کہ : "اے رب العالمین ! تیرے احسانوں کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تُو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے اعمال کر ا جن سے تو راضی ہو جائے۔میں تیری وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیر اغضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 235) اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم دعاؤں کی حقیقت کو سمجھنے والے ہوں۔یہ رمضان ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے اور پھر اس پر مستقل قائم رکھے جو خدا تعالیٰ پر ایمان میں مضبوط ہوتے ہیں۔اس کے احکامات کو سنتے اور عمل کرتے ہیں اور اپنی ہر بات پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرتے ہیں۔ہمارے اعمال خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہوں اور ہمارے اعتقاد میں پہلے سے بڑھ کر مضبوطی پیدا ہو۔ہم میں اللہ تعالیٰ کی سچی محبت پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں دنیاو آخرت کی بلاؤں سے بھی بچائے۔